پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس،عمران خان بری

پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس،عمران خان بری

(سٹی 42) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے   وزیر اعظم عمران خان کو  اور پارلیمنٹ حملہ کیس سے باعزت بری کر دیا، شاہ محمود، اسد عمر اور باقی  پی ٹٰی آئی رہنماوں پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وزیراعظم عمران خان کی مقدمہ سے بریت کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد تین روز قبل فیصلہ محفوظ کیا تھاجبکہ آج جج انسداد دہشت گردی کی عدالت راجا جواد عباس حسن نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو بری کر دیا اور دیگر رہنماوں پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ سنادیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے  فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کو  استثنیٰ حاصل ہے اس لیے ان  پر کیس نہیں چلایا جائے گا لیکن مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان پر 12 نومبر کو فرد جرم عائد کیا جائے گا۔ملزمان میں  وفاقی وزراء  شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، شفقت محمود، اسد عمر، اور علیم خان سمیت دیگر رہنما شامل ہیں  جن کو عدالت نے اگلی سماعت پر طلب کر لیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے وکیل نے بریت کی درخواست پرموقف اپنایا کہ عمران خان کو جھوٹے اور بےبنیاد مقدمے میں پھنسایا جا رہا ہے، ان کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں، نہ ہی کسی گواہ نے عمران خان کے خلاف بیان دیا ہے، یہ ایک سیاسی مقدمہ ہے جس میں سزا کا کوئی امکان نہیں اس لیے وزیراعظم عمران خان کو بری کیا جائے جبکہ پراسیکیوٹر وکیل نے عمران خان کے وزیراعظم بننے سے قبل درخواست کی مخالفت کی تھی لیکن اب پراسیکیوٹر کو بھی کوئی اعتراض نہیں، کہا کہ وزیر اعظم کو بری کر دیا جائے تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ یہ سیاسی طور پر بنایا گیا مقدمہ ہے جس سے کچھ نہیں ملنا اور صرف عدالت کا وقت ضائع ہو گا۔

خیال رہے 2014 میں پی ٹی ائی اور پاکستانی عوامی تحریک کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی پر اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دیا گیا تھا جس دوران دونوں جماعتوں کے کارکنان کی جانب سے وزیر اعظم ہاوس اور پی ٹی وی پر حملہ کیا گیا تھا جس سے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ اور پی ٹی وی کی عمارت کو خاصانقصان پہنچا تھا جبکہ پولیس اور کارکنان کے  درمیان تصادم سے 3 افراد جاں بحق جبکہ 560 سے زائد زخمی بھی ہوئے تھے۔