لیگی رہنماؤں کو میڈیا سے دور رکھنے کیلئے پولیس کی انوکھی حکمت عملی

لیگی رہنماؤں کو میڈیا سے دور رکھنے کیلئے پولیس کی انوکھی حکمت عملی

( یاور ذوالفقار ) ن لیگی رہنماوں کی عدالت میں پیشیاں، پولیس نے لیگی رہنماؤں کو کو میڈیا سے دور رکھنے کے لیے نیا فارمولا تیار کرلیا، میگا فون کا بے دریغ استعمال کیا جانے لگا، عام سائلین کو بھی مقدمات کی سماعت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

احتساب عدالت میں ہائی پروفائل مقدمات میں لیگی رہنماؤں کی پیشیاں اور سیاسی رہنماوں کی میڈیا سے غیررسمی گفتگو سے پریشان پنجاب پولیس نے انوکھا فارمولہ تیار کرلیا۔ قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی پیشی ہویا مریم نواز کی، خواجہ برادران اور حمزہ شہباز ہوں یا پھر رانا ثنا اللہ، پولیس نے تمام اپوزیشن لیڈرز کو میڈیا سے گفتگو کرنے سے روکنے کے لیےالگ ہی طریقہ ایجاد کرلیا۔ سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں کی جانب سے میگا فون کا بے دریغ استعمال کیا جانے لگا۔

میگا فون کسی ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے نہیں بلکہ لیگی رہنماؤں کو میڈیا سے بات کرنے سے روکنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کمرہ عدالت کے باہر خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرنے کی کوشش کی تو پولیس اہلکار راستے خالی ہونے کے باجود میگا فون پر اعلانات کرتے رہے، جس کے باعث عدالتی کارروائیاں بھی متاثر ہوئیں۔

پیشی کے موقع پر پولیس اہلکار دو دو میگا فون لیکرعدالت کا تقدس بھی پامال کرتے رہے جبکہ عام سائلین کو بھی مشکلات کا سامنا رہا۔ سائلین کا کہنا ہے کہ میگا فون کے استعمال سے ان کو عدالتی عملے کی جانب سے مقدمہ کی سماعت کے لیے دی جانے والی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔

پولیس کی جانب سے میگا فون کے بے دریغ استعمال کو وکلاء نے غیر قانونی قرار دے دیا۔ وکلا کا کہنا ہے کہ میگا فون کا استعمال صرف ایمرجنسی کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔