ایل ڈی اے خزانے کو شدید مالی دھچکا

ایل ڈی اے خزانے کو شدید مالی دھچکا

( درِ نایاب ) مالی سال 18-2019 میں ایل ڈی اے خزانے کو شدید مالی دھچکا ، ایل ڈی اے شعبہ کمرشلائزیشن ناقص حکمت عملی پر گامزن، رواں مالی سال صرف 75 کروڑ جمع کرسکے۔

سابق ڈی جی ایل ڈی اے آمنہ عمران کی ناقص حکمت عملی سے خزانے کو 2 ارب کا نقصان ہوا۔ رواں مالی سال شعبہ کمرشلائزیشن گزشتہ سال 2 ارب 40 کروڑ کی نسبت 75 کروڑ جمع کرسکا۔ شعبہ کمرشلائزیشن ریکوری کی جامع پالیسی دینے میں مسلسل ناکام ہے۔ کمرشلائزیشن کی عدم توجہی کے باعث 2 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق شہر میں ہزاروں غیر قانونی کمرشل عمارتوں میں کھلے عام کاروبار جاری ہے۔ ایل ڈی اے شعبہ کمرشلائزیشن نے غیرقانونی عمارتوں کو سربمہر کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سوموٹو کا بہانہ بنا کر ایل ڈی اے نے بلا جواز کمرشلائزیشن پر پابندی لگا دی۔

سابق ڈی جی آمنہ عمران کے زبانی احکامات پر کمرشلائزیشن روک دی گئی تھی۔ سالانہ کمرشلائزیشن روکنے اور ریکوری نہ کرنے سے خزانے کو 2 ارب کا نقصان ہوا۔ گزشتہ مالی سال میں دو ارب ساٹھ کروڑ سے زائد کمرشل فیس اکھٹی کی گئی تھی۔