’’شہری ہوشیار!!! ثنامکی کورونا کے مرض کو بڑھا سکتی ہے‘‘

’’شہری ہوشیار!!! ثنامکی کورونا کے مرض کو بڑھا سکتی ہے‘‘

 سٹی42:  کورونا ایڈوائزری گروپ کے پروفیسر محمود شوکت نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ آج کل ٹوٹکے آزما رہے ہیں، ثنامکی کا استعمال دینی فریضہ سمجھ کر کیا گیا، دنیا میں کہیں بھی اس کی افادیت نظر نہیں آئی۔

 پروفیسر محمود شوکت نے عوام کو پھلوں کے استعمال کا مشورہ دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے، ثنامکی مرض کو بڑھا سکتی ہے، دنیا میں کہیں بھی ثنامکی کی افادیت نظر نہیں آئی، بہت سے لوگوں کو ثنا مکی پینے سے ہسپتال جانا پڑا، ان کا مزید کہنا تھا کہ  آپ زیادہ سے زیادہ پھلوں کا استعمال کریں۔

یاد رہے جہ اس سے قبل سنا مکی کے استعمال کی افادیت اور نقصانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہر غذائیت نیلم اعجاز کا کہنا تھا کہ لوگ سوچے سمجھے بغیر سوشل میڈیا پر ٹوٹکا شیئر کر رہے ہیں کہ سنا مکی سے کورونا وائرس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہربل ادویات اور جڑی بوٹیوں میں انسانی جسم میں سوزش کم کرنے کی خصوصیات ضرور موجود ہوتی ہیں جیسے کہ سادہ لیمن گراس کا قہوہ بھی استعمال کریں تو وہ بھی کانسی اور گلے کی سوزش میں آرام دیتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’سنا مکی کے قہوے کی تاثیر گرم ہوتی ہے اس لیے جب اسے استعمال کیا جاتا ہے تو مریض کا پیٹ خراب ہو جاتا ہے جس سے اس کے جسم میں نمکیات کی کمی واقع ہو جاتی ہے جو کورونا کے مریض کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خصوصی طور پر بلڈ پریشر ، گردے اور جگر کے مریضوں کے لیے سنا مکی کا استعمال زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے، اگر کوئی شخص اس جڑی بوٹی کا استعمال زیادہ کرے گا تو یہ اس شخص کے معدے کے کچھ حصے کو مستقل طور پر نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔