خاتون ٹک ٹاکر کو تین سال قید،جرم کیا تھا؟

خاتون ٹک ٹاکر کو تین سال قید،جرم کیا تھا؟

سٹی 42:دنیا بھرمیں سماجی روابط کی ویب سائٹس اور ویڈیو شیئرنگ ایپس نئی نسل اور شہرت کے دلدادہ افراد کی من پسند مصروفیت بن چکی ہے مگر کئی لوگوں پر اس کے استعمال کی زیادتی کے الزامات بھی عائد ہوتے رہتے ہیں۔لوگ عام سماجی رابطوں کے بجائے سوشل میڈیا رابطو ں کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔جہاں سوشل میڈیا سماج پر مثبت اثر ڈال رہا ہے تو اسی سوشل میڈیا کے معاشرے پر منفی اثرات بھی پڑرہے ہیں۔

ٹک ٹاک پر بنائی جانے والی چند ویڈیوز پر یہ الزام بھی عائد کیاجاتا ہے کہ ان میں سماجی اخلاقیات کا خیال نہیں رکھاجاتا اور فحاشی و عریانی پھیلائی جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک الزام مصر کی ایک ہائی پروفائل بیلے ڈانسر سیما المصری پر لگایا گیا جس کے بعد انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مصر میں عدالت نے ایک بیلے ڈانسر کو ٹک ٹاک پر بنائی گئی ایک ویڈیو میں فحاشی پھیلانے کے جرم میں تین سال قید اور 15ہزار پاونڈز جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔

عرب ٹی وی  کے مطابق خاتون ٹک ٹاکر کا موقف ہے کہ ان کی ویڈیوز اور تصاویر کو چرا کر لیک کیاگیاہے اور ان کاایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ تاہم عدالت نے ان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے بیالیس سالہ خاتون ٹک ٹاکر کوسزاسنادی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ المصری نے خاندانی ضوابط کو توڑا اور غیر اخلاقی اقدام کیا۔مصری رکن پارلیمنٹ جان طلعت  نے ریمارکس دیے کہ آزادی اور عریانی میں بہت بڑا فرق ہے۔ ایسی خواتین ٹک ٹاکرز کے خلاف مزید کارروائی ہونی چاہیے۔

یاد رہے کھیل کھیل میں ہی نو جوان لاکھوں میں کھیلنے لگے،دکان،بھٹو ں سے نکل کر سٹار بن گئے۔جہاں  ٹک ٹاک نامی ایپلی کیشن نے شوبز ستاروں،سیاستدانوں کی اجارہ داری ختم  کی ہے تو کچھ ٹک ٹاکر لاکھوں روپے بھی کما رہے ہیں،جہاں یہ ٹک ٹاکر شہرت کے حامل ہیں اور پیسے کمارہے ہیں تو دوسری جانب خودکشی اور خطرناک سٹنٹ کرنے کی وجہ سے ہولناک واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔