ڈاکٹروں نے شہباز شریف کو تین ہفتے آرام کرنے کا مشورہ دے دیا

ڈاکٹروں نے شہباز شریف کو تین ہفتے آرام کرنے کا مشورہ دے دیا

ملک اشرف: ڈاکٹروں  نے کورونا وائرس کے شکار سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو مزید 3 ہفتے آرام کا مشورہ دے دیا، لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع کر دی، شہباز شریف کی آج حاضری استثنی کی متفرق درخواست بھی منظور، اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے ضمانت میں 3 ہفتے کی توسیع کیلئے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

وکیل  نے موقف اختیار کیا کہ  شہباز شریف کورونا کی وجہ سے آئسولیشن میں ہیں، نیب کے وکیل  کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے 25 جون کو کورونا کا ٹیسٹ کروانا تھا لیکن نہیں کرایا، اس طرح تو شہباز شریف ٹائم مانگتے جائیں گے،عدالت  نے شہباز شریف  کو 2 جولائی کو کورونا ٹیسٹ کروانے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹروں  نے کورونا وائرس کے شکار سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو مزید 3 ہفتے آرام کا مشورہ دے دیا، لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع کر دی، شہباز شریف کی آج حاضری استثنی کی متفرق درخواست بھی منظور، اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے ضمانت میں 3 ہفتے کی توسیع کیلئے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

 

  درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹرز نے کورونا وائرس کے باعث مزید 3 ہفتے آرام کا مشورہ دیا ہے، شہباز شریف کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کیلئے بھی متفرق درخواست بھی دائر کردی گئی ہے جس کی سماعت آج ہوگی۔  میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے حاضری معافی اور مچلکوں پر دستخط  کے لئے متفرق درخواسیں دائر ہیں، جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل بنچ  نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

 

بنچ نمبر 1 میں چیف جسٹس محمد قاسم خان اور جسٹس عاصم حفیظ پر مشتمل ڈویژن بینچ نمبر نمبر 2 میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس علی باقر نجفی شامل ڈویزن بنچ نمبر 3 میں جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شمس محمود مرزا شامل ہیں۔ بنچ نمبر 4 جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس رسال حسن سید پر مشتمل ہیں،  بینچ نمبر 5 میں جسٹس مس عالیہ نیلم اور سید شہباز علی رضوی شامل ہیں، بنچ نمبر چھ میں جسٹس شاہد جمیل خان اور جسٹس ساجد محمود سیٹھی شامل ہیں۔

بنچ نمبر سات جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل نیب کیسز سنے گا اور دورکنی بنچز پیر سے جمدرات تک کیسز کی سماعت کریں گے،  دو رکنی بنچز میں شامل تمام ججز سنگل بنچز میں بھی شامل ہوں گے۔