ویڈیو گیمز کھیلنے والوں کیلئے نوٹوں کی بارش

ویڈیو گیمز کھیلنے والوں کیلئے نوٹوں کی بارش

سٹی 42:کھیل کھیل میں ہی بندہ امیر ہوجائے تو وہ اور کیا چاہے گا، سونی کمپنی نے ایسے افراد کیلئے  ایک  منصوبہ دے دیا ہے۔

ویڈیو گیمز کے شوقین افراد کے لیے سونی کمپنی کی طرف سے 80 لاکھ روپے  سے زیادہ کمانے کا موقع فراہم کر دیا گیا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق سونی کی طرف سے حال ہی میں اپنا پلے سٹیشن 4متعارف کروایا گیا ہے اور اب کمپنی نے گیمرز کو پیشکش کی ہے کہ جو بھی اس پلے سٹیشن کی خامیاں اور کمزوریاں دریافت کرکے کمپنی کو بتائے گا اسے 50ہزار ڈالر (تقریباً 83لاکھ 77ہزار روپے)تک کا انعام دیا جائے گا۔

کمپنی کی طرف سے اس پیشکش پر مبنی پروگرام کو ’ پلے سٹیشن بگ باﺅنٹی پروگرام‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جس کے تحت پلے سٹیشن 4میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنے والے گیمرز کو انعامی رقم کی ادائیگی کا سلسلہ شروع بھی کیا جا چکا ہے۔ اب تک اس پروگرام کے تحت گیمرز کو مجموعی طور پر 1لاکھ 74ہزار ڈالر (تقریباً 2کروڑ 91لاکھ روپے)کی رقم ادا کی جا چکی ہے، جنہوں نے پلے سٹیشن میں مختلف نوعیت کے بگز (Bugs)کی نشاندہی کی۔

یاد رہے پاکستان میں نوجوانوں کا ویڈیو گیمز کھیلنا پسند نہیں کیا جاتا۔ آج سے چند سال پہلے جب کمپیوٹر ہر گھر میں عام نہیں ہوا تھا تو مارکیٹوں میں موجود ویڈیو گیمز کی دکانوں میں موجود نوجوانوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا اور والدین بھی چاہتے تھے کہ ان کا بچہ ان آرکیڈز میں مت جائے۔

والدین کی بچوں کو ویڈیو گیم آرکیڈ میں جانے سے روکنے کی کئی وجوہات تھیں اور ان میں سے بیشتر وجوہات جائز بھی تھیں مگر بدقسمتی سے اس وجہ سے ویڈیو گیمز کے حوالے سے معاشرے میں ایک منفی تاثر پھیل گیا۔جہاں ماہرین کا یہ کہنا کہ ان گیموں پر گھنٹوں وقت گزارنا ذہنی و جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے وہیں ان گیمز کے حوالے سے ایک دوسرا موقف بھی پایا جاتا ہے۔اور وہ موقف ہے کہ ویڈیو گیم بری چیز نہیں۔ ویڈیو گیم کے استعمال میں زیادتی بری چیز ہے۔