’’سرکاری تعلیمی اداروں سے متعلق اعداوشمارغلط، وزیر تعلیم بیان واپس لیں‘‘

’’سرکاری تعلیمی اداروں سے متعلق اعداوشمارغلط، وزیر تعلیم بیان واپس لیں‘‘

لوئرمال(سٹی42نیوز ) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے قومی اسمبلی کے حالیہ بجٹ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی تعریف میں سرکاری سکولوں کی تعلیم کو دوسرے درجے کی تعلیم قرار دے ڈالا جو کہ خلاف حقیقت اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔

 

ان کا یہ کہنا ہے کہ ملک کی اعلیٰ سروسز میں پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ ہی پہنچ پاتے ہیں، بھی حقائق کا منہ چڑھانے کے مترادف ہے، تنظیم اساتذہ پنجاب کے صدر پروفیسر غلام اکبر قیصرانی، سکول ڈیپارٹمنٹ کی آٹھ تنظیموں کے مشترکہ فورم متحدہ محاذ اساتذہ پنجاب کے چیئرمین حافظ عبدالناصر اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم جن سرکاری تعلیمی اداروں کے کسٹوڈین ہیں، انہیں دوسرے درجے میں شمار کرنا انہیں زیب نہیں دیتا۔

ان کے بیان سے لاکھوں سکول اساتذہ کی دل آزاری ہوئی ہے جس پر انہیں معذرت کرنی چاہیے اور اپنا بیان اسمبلی کے فلور پر واپس لیں، انہوں نے کہا اعلیٰ سروسز میں پرائیویٹ سکولوں کی کارکردگی کا بھانڈا سی ایس ایس کے گزشتہ دو سالوں اور اس سال کے امتحانی نتائج نے سر راہ پھوڑ دیا ہے۔

گزشتہ سال 9613 امیدواروں میں سے 202 اور اس سال جو رزلٹ آیا ہے اس میں 13500 میں سے صرف 312 امیدوار کامیاب ہوسکے، اگر انگلش میڈیم سکولوں کی کارکردگی دیکھنا ہو تو اس رزلٹ کی تفصیلات نکال کر اس کا تجزیہ کروالیں، آپ کو زیادہ تر امیدوار انگریزی کے مضمون میں فیل نظر آئیں گے۔

انہو ں نے کہا قیام پاکستان سے اب تک مختلف شعبہ زندگی میں ترقی ان لوگوں کی طفیل ہے جو گورنمنٹ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے پڑھ کر نکلے ہیں، ہم وزیر موصوف سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ سرکاری سکولوں اور ان کے اساتذہ کو کم تر قرار دینے کے بجائے ان کا معیار مزید بہتر کرنے کا کوئی قابل عمل منصوبہ رکھتے ہیں تو سامنے لائیں۔

اساتذہ کرام ان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ اساتذہ رہنماؤں نے یکساں نصاب کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور ساتھ ہی اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ" ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں". اساتذہ رہنماؤں نے کہا ہے کہ تعلیم کااصل مسئلہ" ذریعہ تعلیم" ہے،اسے حل کیے بغیر ہم تحقیق اور ایجادات کی دنیا میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔

اقوام متحدہ کا تعلیمی کوڈ آف ایتھکس کہتا ہے کہ ابتدائی تعلیم بچے کو اس کی مادری زبان میں دی جائے اور گیارہ سال کی عمر تک اسے دوسری زبان نہ پڑھائی جائے تاکہ اس کی فطری صلاحیتیں پروان چڑھ سکیں، ہم امید کرتے ہیں کہ اس اہم فیصلے کو حتمی شکل دیتے ہوئے یہ بنیادی پہلو نظروں سے اوجھل نہیں رہے گا۔