بسنت کے حوالے سے عدالت کے اہم ریمارکس

بسنت کے حوالے سے عدالت کے اہم ریمارکس

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے بسنت پر پتنگ بازی کی اجازت نہ ملنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ بسنت تفریح اور ہزاروں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہے لیکن افسوس اسے ہم نہیں بیرونی دنیا بنا رہی ہے ۔

جسٹس عابد عزیز شیخ نےڈسٹرکٹ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار لالہ جمشید کی جانب سے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ بسنت شہر کا ثقافتی تہوار ہے،حکومت کی جانب سے بسنت کی اجازت نہ ملنے پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا،عدالت نے پتنگ بازی کے لئے احتتاطی تدابیر اختیار کرنے اور اجازت کے لئے ضلعی انتظامیہ سے رجوع کی ہدایت کی تھی۔

انتظامیہ نے ابھی تک پتنگ بازی کی اجازت نہیں دے رہی،بسنت 22 اور23 فروری کو بسنت منانے کا اعلان کررکھا ہے، درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت پتنگ بازی کی اجازت دینے کا حکم دے۔

جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی دنیا میں بسنت فیسٹول منانے کے لیے ایریاز مختص ہیں،بیرونی دنیا کے اس ماڈل کو یہاں بھی دیکھنا چاہیے، پتنگ بازی کے لئے ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں آبادی نہ ہو ۔

سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے فیصلہ کرنا ہے اس کو فریق ہی نہیں بنایا گیا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہاقانون کہتا ہے کہ حکومت نے ہی فیصلہ کرنا ہے،لیکن اس وقت عدالت یہ معاملہ دیکھ رہی ہے،عدالت نے دوران سماعت کائٹ فلائنگ کے نمائندوں پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے کہا آپ لوگوں نے اپنا کاروبار خود تباہ کیا ۔

جو خطرناک ڈور بناتے ہیں ان کے خلاف آپ کو خود کاروائی کرنی چاہیے،عدالت نےکائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن سے بسنت پر محفوظ پتنگ بازی کے لئے تجاویز طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 10 فروری کے لئے ملتوی کردی،کیس سماعت کے پیش نظر ہائیکورٹ میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔