5 جنوری سے فائیو جی لانچ کرنے کا فیصلہ

5 جنوری سے فائیو جی لانچ کرنے کا فیصلہ
کیپشن: 5G
سورس: google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک :  امریکا میں 5 جنوری سے فائیو جی وائرلیس سروس کا آغاز کیا جارہا ہے  لیکن ماہرین  کو خدشہ ہے کہ فائیوجی نیٹ ورک کا جلدی میں آغاز کسی سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔

 امریکا میں فائیو جی وائرلیس نظام کا نفاذ دنیا بھر میں موجود ائیر لائنز کو مشکل میں ڈال سکتا ہے کیونکہ  فائیو جی سی بینڈ اسپیکٹرم  کی فریکوئنسی پر کام کرے گا جو کہ دنیا بھر کی ائیرلائنز کو الاٹ شدہ محفوظ اسپیکٹرم سے صرف ایک درجے بعد کی فریکوئنسی ہے ۔  ماہرین کا کہنا ہے اگر ائیر لائنز کو الاٹ شدہ محفوظ اسپیکٹرم تبدیل نہ کیا گیا تو خدشہ ہے فائیو جی اسپیکٹرم کے باعث نہ صرف پروازیں تاخیر کا شکا رہوں گی  کئی پروازوں کو راستہ بدلنا ڑے گا یا منسوخ بھی ہوسکتی ہیں۔ 

یادرہے امریکا میں فائیو جی اسپیکٹرم 3.7 گیگا ہرٹرز سے لے کر 3.98 گیگا ہرٹز کی فریکوئنسی پر آپریٹ ہوگی جبکہ انٹرنیشنل ایوی ایشن  کو الاٹ شدہ محفوظ فریکوئنسی 4.2 گیگا ہرٹز ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی طیاروں کی حساس الیکٹرونک تنصیبات کے فنکشنز یا کمیونیکشنز کو متاثر کرسکتی ہے۔  کسی بھی ناخوشگوار حادثے یا عوام کو مشکلات  سے بچنے کے لئے  فائیو جی کو فوری لانچ نہ کیا جائے۔ یونائٹڈ ائیر لائنز ک چیف ایگزیکٹو اسکاٹ کربی  کے مطابق فائیو جی سروسز کے لانچ سے ہزاروں مسافر متاثر ہوسکتے ہیں۔