12 بجے عدالت کیوں کھلی؟ قیدیوں کی وین کیوں آئی ؟ چیف جسٹس نے اہم راز سے پردہ اٹھادیا

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
کیپشن: Chief Justice Athar Minullah
سورس: Google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: رات 12 بجے عدالت کیوں کھلی؟ قیدیوں کی وین کیوں آئی ؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے اہم راز سے پردہ اٹھادیا۔

 چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔  انہوں نے استفسار کیا کہ یہ عدالت ہر ایک کے لیے برابر ہے ؟ آپ نے کاشف عباسی کا کل کا پروگرام سنا ہے ، کیوں اتنا Concerned ہیں کہ عدالتیں رات کو کیوں کھلی ہیں؟ ایک بیانیہ بنا دیا گیا کہ عدالتیں کھولی گئیں، کیا اس بیانیے کے پیچھے کوئی سیاسی وجہ ہے۔

 چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے واضح پیغام دیا کہ کسی کو آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی، یہ واضح پیغام ہے کہ کسی کو آئین توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، میں گھر میں بیٹھا تھا اور آپ کا چینل کہہ رہا تھا کہ چیف جسٹس عدالت پہنچ گئے، سارے لگے ہوئے ہیں عدالتیں کھل گئیں اپنے اپنے مفاد کے لیے یہ کام نہ کریں، قیدیوں کی وین اس لیے آئی تھی اس وقت کوئی احتجاجی لوگ سپریم کورٹ کے سامنے آئے تھے، 9اپریل کی رات اس عدالت کی صرف لائٹس آن ہوئی تھیں ان سے کسی کو کیا مسئلہ ہے؟۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ کورٹ بند کردیں اور ایسی کوئی درخواست نہ لیں ، یہ عدالت توہین عدالت پر یقین نہیں رکھتی ، اس عدالت نے عدالتی وقت کے بعد کئی کیسز کو سنا ہے ، کوئی ایک ذمہ داری بھی ہوتی ہے آپ عدالتوں پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں، کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ آئین کی خلاف ورزی کرے، اگر آئین یا کسی پسے ہوئے طبقے کی درخواست آئے گی تو عدالت رات تین بجے بھی کھلے گی۔ آپ کے صحافیوں کو دن دھاڑے گولیاں ماری گئیں ان کی کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک کامن سینس کی بات بتائیں اس شام سپریم کورٹ کا کون سا آرڈر پاس ہوا تھا، جس پر سب نے شور مچایا ۔ اداروں کو آپ جس طرح آپ اپنے سیاسی بیانیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے، عدالت آپ کو تجویز کرتی ہے کہ ایسا نا کریں، پھر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم کسی کے کہنے پر یہاں بیٹھے ہیں ۔ آپ اپنے اندر بھی دیکھیں، کیا 1977 اور 1999 کو یہ عدالتیں بیٹھی ہوتیں تو تاریخ آج مختلف نہ ہوتی، 9 اپریل کو عدالت نے ایک واضح میسیج دیا ہے کہ کوئی خلاف آئین کام برداشت نہیں کیا جائے گا، سپریم کورٹ کے خلاف سیاسی بیانیوں اور ان پر حملہ کرنے میں کیا فرق ہے؟۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ کے صحافیوں کو دن دھاڑے گولیاں ماری گئیں ان کی کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں، آپ کے چینل نے مسنگ پرسنز ، بلوچ طلبہ کے لیے کتنے پروگرام کیے ہیں ؟ کس نے مسنگ پرسنز کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

اینکر پرسن نے جواب دیا نامعلوم لوگوں کی جانب سے ہدایات آتی ہیں نا چلائیں ، ایسی خبریں چلانے پر دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 2019میں ہم نے پالیسی بنائی کسی بھی وقت آپ پٹیشن فائل کر سکتے ہیں ، آپ چینل ڈرتے ہوں گے یہ عدالت کسی سے نہیں ڈرتی ، صرف اللہ سے ڈرتی ہے۔

وکیل نے بتایا کہ اینکر پرسن اور ان کی فیملی کو ہراساں کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ہراساں کرنے کے الزام میں بھی کوئی صداقت نہیں، ہم نے کوئی ایکشن نہیں لیا، کوئی انکوائری نہیں کی۔