عمران خان کی آڈیو لیک پر سینئر   صحافیوں اوراہم شخصیات کا ردعمل

عمران خان کی آڈیو لیک پر سینئر   صحافیوں اوراہم شخصیات کا ردعمل
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:سابق وزیراعظم عمران خان کی مبینہ آڈیو لیک پر ملک کے سینئر    صحافیوں اور اہم شخصیات کا ردعمل آیا ہے۔

 سینئر صحافی حامد میر نے   اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ " عمران خان کے کھیل کی کہانی ان کی اپنی  زبانی۔"خیال رہے کہ خط اصلی نہیں ،حامد میر نے پانچ ماہ پہلے ہی انکشاف کردیا تھا۔ حامد میر نے انکشاف کیا تھا کہ ڈپلومیٹ کے بھیجے گئے متن کو وزارت خارجہ میں دوبارہ تحریر کیاگیاتھا اور  متن میں کچھ الفاظ شامل کیے گئے تھے۔ انہو ں نے 5 ماہ قبل انکشاف کیا تھا کہ خط میں جعلسازی کا عنصربھی شامل ہے ۔

سلیم صافی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا "عمران کےاس من گھڑت سازشی تھیوری کےنتیجےمیں پورےمغرب سےپاکستان کےتعلقات خراب ہوئے۔اپنےسفیرکورسواکیا۔ پوری دنیامیں اب کوئی غیرملکی پاکستانی سفیروں سےدل کی بات نہیں کرتا۔اس تھیوری نےپاکستانی سفارتی اورنتیجتامعاشی حوالوں سےتباہ کرکےرکھ دیا۔ جو بھی فورم ہو اس کا حساب ضرور ہونا چاہئے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "سالوں سے متنبہ کررہا ہوں کہ کپتان بہت بڑا کھلاڑی ہے لیکن کوئی ماننے کو تیار نہ تھا۔ اب سمجھ آئی کہ کتنا بڑا کھلاڑی ہے اور کیسے کیسے کھلاڑیوں کو ساتھ ملارکھا تھا۔"

سینئر  صحافی غریدہ فاروقی کا عمران خان کی آڈیو لیک پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ "سائفر کی سازش کا جھوٹا بیانیہ اپنی موت مرتے ہوئے!  کس طرح ایک نارمل مراسلے کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ملک کو مفلوج کر دیا گیا بلکہ ملکی سلامتی خارجہ تعلقات اور پورے نظام کو خطرے میں ڈالا گیا۔" یہ پیغام انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے شیئر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ " گویا پی ٹی آئی نے تسلیم کر لیا ہے کہ آڈیو اصلی ہے عمران خان اور اعظم خان کی ہی ہے۔۔۔! اور sitting وزیراعظم، اپنے دفتر میں بیٹھکر ریاستی ملازمین کیساتھ پاکستان، ریاستِ پاکستان کے اداروں/سربراہان کے ہی خلاف سازش تیار کرے۔۔۔ کمال۔۔!"

طلعت حسین نے اپنے پیغام میں لکھا کہ " عمران نے اپنے دفتر میں بیٹھ کر وزیر اعظم کی حیثیت سے بیرونی سازش کا ایک بہت بڑا جھوٹ تیار کیا  اور اس ذلت آمیز سازش کو جاری کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا۔ شاہ محمود  بھی اس کا مرکزی حصہ تھے۔ اگر یہ قومی سلامتی کی خلاف ورزی نہیں تو پتہ نہیں کیا ہے۔"

انصار عباسی نے اپنے پیغام میں بتایا کہ  "جولائی 4 کو میں نے جنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا “ایک مبینہ آڈیو تو ایسی بھی ہے جس میں عمران خان اپنی وزارت عظمیٰ کے آخری دنوں میں اپنے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو امریکی مراسلہ کا حوالہ دے کر کچھ اس طرح کہتے ہیں"Lets play with it."