اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ضمانت خارج ،احاطہ عدالت سے گرفتا ر


ملک محمد اشرف ،علی اکبر  ،عمر اسلم :اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ضمانت خارج ،احاطہ عدالت سے حراست میں لے لیا گیا۔

اس سے قبل اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کیخلاف منی لانڈرنگ کیس  میں ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ  میں کیس کی سماعت ہوئی ، اپوزیشن لیڈر شہبازشریف ہائیکورٹ پہنچے تو لاہور ہائیکورٹ کے باہر کارکنوں کی بڑی تعداد جمع  تھی ،کارکنوں نے عدالت پہنچنے پر اپنے لیڈر کا استقبال کیا۔

کیس کی سماعت جسٹس سردار احمد نعیم کررہے ہیں ،شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ مجھے بولنے کی اجازت ہے ؟ اس پر جج نے کہا کہ  اگر آپ کے وکیل نے دلائل دینے ہیں، اگر کوئی بات رہ جائے گی تو آپ کر لیجئے گا۔

اڑھائی سو سال لگ جائیں گے،کرپشن ثابت نہیں کر سکیں گے:شہباز شریف 

شہباز شریف نے عدالت میں صفائی دیتے ہوئے کہا کہ بہت شکرگزار ہوں آپ نے وقت دیا میں ایک خطاکار انسان ہوں، ہم سب اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، میں نے 1997ء میں 2013ء 2018ء کے ادوار میں دن رات محنت کر کے پنجاب کے عوام کی خدمت کی ہے ،بے شمار کام اور ہونے والا ہے، خو د کتابچہ عدالت میں پیش کیا ہے اس کو دہرائوں گا نہیں، ہم نے پروکیورمنٹ میں 1 ہزار ارب روپے پاکستان کے بچائے ،اڑھائی سو سال لگ جائیں گے کہ عوامی سطح پر میرے کیخلاف کرپشن ثابت نہیں کر سکیں گے، ٹرانسپرنٹ پروکیورمنٹ متقاضی ہے کہ پیپرا رولز کے تحت سب سے کم بولی والے کو ٹھیکہ دیا جائے۔ اورنج لائن میں ہم نے بولی لگوائی حالانکہ بولی کا قانون اجازت نہیں دیتا تھا میرا ضمیر مجھے مجبور کر رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے اورنج لائن میں 600 ملین روپے بچائے ،مجھ پر الزام لگایا گیا ہے میرے بے نامی اثاثے ہیں، 2014-15 میں اختیارات سے تجاوز کیا ہوتا تو مجھے پھر اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے تھی ،سندھ کے مقابلے میں گنے کی قیمت زیادہ رکھی اور سبسڈی بھی نہیں ۔اس سے میرے بچوں اور عزیزوں کی شوگر ملز کو نقصان ہوا، سبسڈی نہ دینے سے میرے بیٹوں، بڑے بھائیوں کی شوگر ملز کو 90 کروڑ کا نقصان ہوا، میں نے اپنے ضمیر کی آواز پر نہ کسانوں کو نقصان پہنچایا نہ قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دئیے کہ شہباز شریف سے کوئی ریکوری کی ضرورت نہیں، شہباز شریف کے اثاثے منجمد ہو چکے ہیں، ا شہباز واحد قائد حزب اختلاف ہیں جنہیں نیب حراست میں رکھتا ہے اور تفتیش نہیں کرتا، امجد پرویز ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل  ہونے پر شہباز شریف کو بات کرنے کی اجازت دی گئی۔

اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری کیلئے نیب کی ٹیم بھی موجود  رہی ،ضمانت میں توسیع نہ ملنے پر شہباز شریف کو گرفتار کرلیا گیا۔

تحریک انصاف کی حکومت بوکھلاہٹ کاشکارہے:احسن اقبال 

دوسری جانب سیکرٹری مسلم لیگ ن احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ نے تاریخی کام کیا،تحریک انصاف کی حکومت بوکھلاہٹ کاشکارہے،عوام نوازشریف،ن لیگ کےساتھ ہیں،حکومت ہتھکنڈوں سےعوامی فیصلے نہیں بدل سکتے۔

خرم دستگیر خان نے کہا کہ اپوزیشن نےتحریک چلانےکافیصلہ وہ چلائیں گے،طلال چودھری کےمعاملےپرغلط افواہ پھیلائی گئی،فریقین کاموقف سامنےآنےکاانتظارکرناچاہیے۔صدر مسلم لیگ ن پنجاب رانا ثنااللہ نے کہا کہ  سیاسی انتقام کے طور پر بےبنیاد کیس بنایا گیا ہے،ریفرنس دائر ہوچکا شہبازشریف کی گرفتاری کا کیاجواز ہے،شہبازشریف کو گرفتار کرنا سیاسی مقصد کےعلاوہ کچھ نہیں،عدالت سے امید ہےانصاف ملے گا،اے پی سی کے مطابق احتجاجی پروگرام ہوگا۔