ٹک ٹاک پر پابندی ختم

ٹک ٹاک پر پابندی ختم

سٹی 42 :دنیا کی مقبول ترین ویڈیو ایپ ٹک ٹاک مشکلات کا شکار ہے،اس ایپ پر مختلف ممالک میں پابندی ہے،اب ایک خوشخبری آئی ہے کہ عدالت نے اس ایپ سے پابندی اٹھالی ہے۔

امریکی عدالت نے ٹک ٹاک ڈاؤن لوڈز پر پابندی کے ٹرمپ انتظامیہ کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق واشنگٹن کی وفاقی عدالت کی جانب سے یہ مختصر فیصلہ ٹک ٹاک  کی درخواست پر دیا گیا۔ٹرمپ انتظامیہ نے چینی ایپ کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور پیر کی رات 12 بجے سے ایپ کے ڈاون لوڈز پر پابندی عائد کر نے کا حکم نامہ جاری کیا تھا تاہم چینی ایپ ٹک ٹاک کو 12 نومبر تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے 12 نومبر سے ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی کے حکم نامے کو معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے چینی لِپ سنکنگ ایپ ٹِک ٹاک پر بھی پابندی عائد کردی ہے تاہم ٹِک ٹاک نے بھی امریکی صدر کے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کردیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین کی ایپ ٹک ٹاک اور وی چیٹ کو ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دینے پر کامرس ڈپارٹمنٹ نے ملک بھر میں 20 ستمبر سے دونوں ویب سائٹس پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا۔

گزشتہ ماہ 7 اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹک ٹاک کی کمپنی ” بائٹ ڈانس “ اور وی چیٹ کی کمپنی ” ٹنسنٹ“ کے ساتھ امریکی کمپنیوں کو کاروباری لین دین 45 دنوں کے اندر ختم کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس کی معیاد ختم ہونے پر اب مکمل پابندی کا اعلان کیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ کے دستخط کردہ حکم نامے میں یہ بھی تجویز کیا گیا تھا کہ امریکا کی قومی سلامتی کے پیشِ نظر ٹک ٹاک کے مالکان کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا ہوگی اور جس کے لیے بہترین وقت امریکی صدرتی انتخاب سے قبل کا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ان چینی ایپس پر امریکی صارفین اور اہم شخصیات کا ڈیٹا جاسوسی کی نیت سے چین کو فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں اور گزشتہ روز ٹک ٹاک کے ساتھ اوریکل کے معاہدے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔