لاہور ہائیکورٹ میں  سعد رضوی کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت

saad rizvi case in lahore high court
کیپشن: saad rizvi case in lahore high court
سورس: google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ملک اشرف:  چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں عدالتی بنچ نے  مذہبی تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کے نظر بندی کے خلاف درخواست کیس کی سماعت کی ۔ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فریقین کے وکلا سے دلائل طلب کر لئے

 رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے امیر حسین کی درخواست پر سماعت کی۔سعد رضوی کی نظر بندی کے خلاف درخواست انکے چچا امیر حسین نے دائر کی ہے۔ وکیل درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ سعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع نہیں ہوئی. چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب نظر بندی میں توسیع ہی نہیں ہوئی تو یہ درخواست قابل سماعت کیسے ہے ۔ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا نظر بندی میں توسیع ہوئی ہے۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے درخواست گزار کے وکیل کا نکتہ سن لیں. وکیل درخواست گزار نے کہا آئندہ سماعت پر عدالت کی اس نکتے پر معاونت کریں گے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا رات کو لیٹ بنچ بنا ہے صبح ہمارے پاس اطلاع آئی ہے کہ کیس فکس ہو گیا۔چیف جسٹس نے کہا سپریم کورٹ نے کیس ریمانڈ کیا ہے، ہم معاملے کو دیکھیں گے ۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عدالت ہمیں وقت دے. ہمیں اس کیس کی صبح اطلاع ملی ہے ۔درخواست گزار وکیل نے کہا حکومت نے سعد رضوی کو غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے ۔ تین ماہ تک نظر بندی ہو سکتی ہے اسکے بعد بورڈ کی جانب سے نظر بندی میں توسیع نہیں کی گئی ۔وفاقی ریویو بورڈ نے بھی نظر بندی میں توسیع نہیں کی گئی ۔ دونوں فریقین نے عدالت سے درخواست کے قابل سماعت سے متعلق دلائل دینے کے لیے وقت مانگ لیا ۔جس پر

دو رکنی بنچ نے سعد رضوی کی نظر بندی کیخلاف سماعت تین نومبر تک ملتوی کر دی۔