اُردو سائنس بورڈ حکومت کی کفایت شعاری کی نذر ہوگیا

اُردو سائنس بورڈ حکومت کی کفایت شعاری کی نذر ہوگیا

مال روڈ (اکمل سومرو) اُردو سائنس بورڈ حکومت کی کفایت شعاری کی نذر ہوگیا، اُردو سائنس بورڈ کو ادارہ فروغ قومی زبان میں ضم کرنے کا فیصلہ ایک سال بعد بھی التواء کا شکار ہے، اردو سائنس بورڈ کے ملازمین پریشانی میں مبتلا ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے 1962ء میں قائم کردہ اردو سائنس بورڈ کو ختم کرنے کا فیصلہ 23 دسمبر 2019ء میں کیا تھا، اُردو سائنس بورڈ کے ملازمین فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر پریشانی کا شکار ہیں، حکومت کی جانب سے ضم کرنے کے فیصلے کے باعث اردو سائنس بورڈ میں ایک سال سے ڈی جی کا عہدہ بھی خالی پڑا ہے جبکہ ضم کرنے کے فیصلے کا اطلاق ہوتے ہی اردو سائنس بورڈ کی عمارت بھی ادارہ فروغ قومی زبان کے سپرد ہو جائے گی، بورڈ اپنے فنڈز سے اب تک 700 کتابوں کی اشاعت کر چکا ہے۔

  حکومت نے اردو سائنس بورڈ اور ڈکشنری بورڈ ختم کرکے نیشنل لینگویج پروموشن اتھارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا، سابق ڈی جی اُردو سائنس بورڈ ناصر عباس نیئر کی مخالفت کے باوجود بورڈ کا وجود ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، سابق ڈی جی نے حکومت کو موقف پیش کیا تھا کہ کفایت شعاری مہم کے تحت بورڈ کو ضم کرنے سے حکومت کو مالی فائدے کی بجائے نقصان ہوگا۔

  اُردو سائنس بورڈ کی 58 سالہ تاریخ میں نامور شخصیت اشفاق احمد، امجد اسلام امجد، کشور ناہید، ناصر عباس نیئر سربراہ رہ چکے ہیں، کیبنٹ ڈویژن ایک سال بعد بھی بورڈ سے متعلق فیصلے کا اطلاق نہیں کر سکا جس کے باعث ملازمین مسلسل اپنے مستقبل سے متعلق پریشانی میں مبتلا ہیں۔