سانحہ داتا دربار کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا


( شاہین عتیق ) داتا دربار کے باہر دھماکہ کرنیوالے ملزم کے سہولت کار کو سزا سنا دی گئی، انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے دہشت گرد کے سہولت کار محسن خان کو 22 بار سزائے موت، چار لاکھ روپے جرمانہ، ایک بار عمر قید اور 24 زخمیوں کو چالیس لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے داتا دربار کے باہر دھماکہ کرکے گیارہ افراد کو ہلاک اور متعدد افراد کو زخمی کرنیوالے دہشتگرد کے سہولت کار محسن خان کو سزا سنا دی ہے۔ ملزم کو سزائے موت، ایک بار عمر قید، چالیس ہزار روپے زخمیوں کو فی کیس ادا کرنے اور جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے، ملزم کے خلاف داتا دربار پولیس نے دوہزار اُنیس میں مقدمہ درج کیا تھا، چالان آنے پر باقاعدگی سے سماعت ہوئی جس پر عدالت نے ملزم پر جرم ثابت ہونے پر اس کو سزا سنائی۔

 ملزم محسن خان دہشتگرد کا سہولت کار تھا اور دہشتگرد کو داتا دربار چھوڑنے کے لیے آیا تھا، ملزم کی گرفتاری پولیس نے سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے کی۔ دھماکے میں ایلیٹ فورس کے جوان بھی شہید ہوئے تھے جو پولیس کی گاڑی میں ڈیوٹی انجام دے رہے تھے، ملزم نے ریمانڈ پر قبول کیا تھا کہ وہ دہشتگرد کو چھوڑنے آیا تھا، عدالت میں ایک درجن سے زائد گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔