میٹروپولیٹن کارپوریشن کی کروڑوں کی اراضی پر قبضہ، حکام خاموش تماشائی


(راﺅ دلشاد) میٹروپولیٹن کارپوریشن کی کروڑوں روپے مالیت کی 32 رہائشی و کمرشل پراپرٹیز پر قبضے کا انکشاف، کارپوریشن کو کرایہ کی مد میں ماہانہ لاکھوں روپے کا ٹیکہ لگایا جا رہا ہے۔ ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ آصف نصیر خاموش تماشائی بن گئے۔

سٹی 42 کو موصول ہونےوالی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی دستاویزات کے مطابق نولکھا پولیس اسٹیشن سمیت میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی مہنگی ترین پراپرٹیز واگزار کرائی جاسکیں نہ ہی واجبات وصول کیے جاسکے۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی پراپرٹیز پر گزشتہ کئی برسوں سے قبضے میں ہے۔ لیکن ڈائریکٹوریٹ اسٹیٹ مینجمنٹ نے ''سب اچھا'' کی رٹ لگا رکھی ہے۔ ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ ایم سی ایل آصف نصیر قابضین سے کرایہ وصول کرنے میں بھی ناکام ہیں۔ شعبہ ریگولیشن نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کو ڈیمارکیشن مراسلہ جاری کردیا۔

دستاویزات کے مطابق میکلوڈ روڈمکھ مارکیٹ کی دکانوں، بلورپیلس بالمقابل گندانالہ رہائشی اور کمرشل پراپرٹی، مال روڈ پر دبئی اسلامک بینک سے ملحقہ پراپرٹی، عبدالکریم روڑ قلعہ گجر سنگھ، کسان مارکیٹ رام گلی نمبر 11 میں ٹرپل سٹوری رہائشی و کمرشل پراپرٹی پرقبضہ ہے۔ چار بینک اسکوائر، 8 بڑی کورٹ بینک اسکوائر لاہور خاص پر ٹرپل سٹوری رہائشی و کمرشل پراپرٹی پر قبضہ کیا گیا ہے۔

ڈیوس روڑ پر نجی ہوٹل سے ملحقہ کمرشل دکانوں اورقلعہ گجر سنگھ حمزہ سنٹرسے ملحقہ کمرشل پراپرٹی، بیڈن روڈ اور لٹن روڈ کی کمرشل پراپرٹیز ،بانس مارکیٹ، شاہ عالم چوک، کچا رشید روڈ، سنت نگر، ابراہیم روڑڈاسلام گنج، پولیس اسٹیشن مستی گیٹ سے ملحقہ کمرشل پراپرٹی ،پرانے راوی پل سے ملحقہ دکانوں، جی ٹی روڈ شاہدرہ کی رہائشی پراپرٹیز زیر قابض ہیں۔

پرانی کوتوالی کی کمرشل پراپرٹیز، بنگلہ ایوب شاہ کشمیری، پرانی چونگی جی ٹی روڈ پر کمرشل پراپرٹی، طارق روڈ گڑھی شاہو اور پولیس اسٹیشن گڑھی شاہو کے عقب میں رہائشی پراپرٹیز زیر قابض ہیں، علامہ اقبال روڈ گڑھی شاہو اور بیگم پورہ جی ٹی روڈ پر رہائشی و کمرشل پراپرٹیز پرقبضہ ہے۔