نواز شریف کی ڈی پی او نارووال کیخلاف پریس کانفرنس،انکوائری کا حکم

نواز شریف کی ڈی پی او نارووال کیخلاف پریس کانفرنس،انکوائری کا حکم

ملک محمد اشرف :محمد نوازعرف میاں محمد نواز شریف کی ڈی پی او نارووال کےخلاف پریس کانفرنس کامعاملہ، لاہور ہائیکورٹ میں پولیس حراست سےدوافراد کی بازیابی کیس کی سماعت،،عدالت نےآئی جی پنجاب کومعاملےکی دو ماہ میں انکوائری کرنےکا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹادی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس انوارالحق پنوں نےنویدہ حفیظ کی درخواست پرسماعت کی،ایس پی لیگل گوجرانوالہ غلام حسین،ایس پی فدا حسین سمیت دیگرپولیس افسران پیش ہوئے،ایس پی فدا حسین نےعدالت کوآگاہ کیا کہ ڈی پی او نارووال ذوالفقاراحمد چارروز سےقرنطینہ میں ہیں،جسٹس انوار الحق پنوں نےکہا کہ بتائیں کس قانون کےتحت درج مقدمات کی ایف آرزکو سیل کیا گیا،بظاہرلگتا ہےکہ پولیس کی جمع کرائی گئی رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں۔

جسٹس انوار الحق پنوں نے مزید ریمارکس دئیے کہ یہاں آکرکہاجاتا ہےبندہ ان کی حراست میں نہیں،پھر گرفتاری ڈال دی جاتی ہے،درخواست گزار وکیل منیرحسین بھٹی نےعدالت کو آگاہ کیا کہ نارووال علاقہ غیربنا ہوا ہے،وکیل درخواست گزارنےکہا کہ محمد نوازعرف میاں محمد نواز شریف نےڈی پی او ناروال کےخلاف پریس کانفرنس کی،پریس کانفرنس میں ڈی پی او پررشوت طلب کرنےکےالزامات لگائےگئے۔

ڈی پی او نارووال کے ایماء پر پولیس نےمیاں محمد نواز شریف اوردرخواست گزار خاتون کےخاوند حفیظ الرحمان کواٹھا لیا،پولیس نےمحمد نوازعرف میاں محمد نواز شریف اورحفیظ الرحمان کوغیرقانونی میں حراست میں رکھا ہوا ہے،دونوں افراد کی بازیابی کےلیےلاہور ہائیکورٹ سےرجوع کیا،عدالتی حکم کے باوجود پولیس دو محبوس افراد کوبازیاب نہیں کررہی۔

درخواست گزارنےاستدعا کی کہ عدالت پولیس کودونوں افرادکوبازیاب کرکےپیش کرنے کا حکم دے جبکہ پولیس کی جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں افراد پولیس حراست میں نہیں۔

یاد رہے درخواست گزار سابق وزیر اعظم نواز شریف کا ہم نام ہے،اصلی نواز شریف نہیں ہے،سابق وزیر اعظم علاج کے سلسلہ میں لندن میں مقیم ہیں۔ان کو دل،گردے سمیت مختلف بیماریاں ہیں۔