پتنگ بازی نے 6 سالہ بچی کی جان لے لی


(عابد چودھری) پتنگ بازی کا  خونی کھیل صوبےکے ساتھ ساتھ بالخصوص شہر میں بھی دھڑلے سے جاری ہے۔آئے روز انسانی جانوں کا ضیاع ہورہا، خواتین، بچے،مرد اور بزرگ افراد اس سے غیرمحفوظ ہیں, پتنگ بازی کا ایک اور دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں 6 سالہ معصوم بچی جاں بحق ہوگئی.وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سےرپورٹ طلب کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں پتنگ بازی نے چھ سالہ بچی کی جان لے لی، ساندہ میں چھ سالہ حریم فاطمہ اپنے والد کے ہمراہ گھر جا رہی تھی کہ گلے پر ڈور پھر گئی ،حریم کو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی۔سی پی او ذوالفقار حمید نے نوٹس لیکررپورٹ طلب کرلی۔ڈبل سڑکاں پر ڈور پھرنے سے تشویشناک حالت میں حریم کو میاں منشی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نی ہوسکی۔

ذرائع کا کہنا تھا جکہ شہری عمران فیملی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر شاہدرہ جا رہا تھا،پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد بچی کی لاش ورثا کے حوالے کر دی،افسوسناک واقعہ پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سےرپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ  ساندہ میں گلے پر ڈور پھرنے سے 6سالہ حریم فاطمہ کے جاں بحق ہونے کے معاملہ پر ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان نے ایس ایچ او ساندہ انسپکٹر شرجیل ضیاء کو فوری معطل کرکے لائن حاضر کر دیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان کا کہناتھا کہ ایس پیز،ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز اپنے علاقوں میں پتنگ بازی ایکٹ پر عملدرامد یقینی بنائیں، پتنگ بازی سے کسی ہلاکت کی صورت میں متعلقہ افسرکے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی،والدین پتنگ بازی جیسے خونی کھیل سے اپنے بچوں کو دور رکھیں،شہری اپنی چھتوں کو اس خونی کھیل کے لِئے کسی کو بھی استعمال نہ ہونے دیں۔

واضح رہے کہ پتنگ کی دھاتی ڈور پھرنے سےجاں بحق ہونے والے افراد کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو نہ پتنگ اڑاتے ہیں اور نہ ہی ان کا مقصد پتنگ لوٹنا ہوتا ہے، یہ خونی کھیل آئے دن کسی نہ کسی انسان کی زندگی کا چراغ گل کرتا چلا جارہا ہے۔