کرونا وائرس کیا ہے؟ علامات اور احتیاطی تدابیر

کرونا وائرس کیا ہے؟ علامات اور احتیاطی تدابیر

(ویب ڈیسک) اس وقت  کرونا وائرس کے انسانوں پر حملے جاری ہیں جس سے بدنیا بھر میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

کرونا وائرس چین میں خطرناک حد تک پھیل چکا ہے۔  چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 106 ہوگئی ہے۔ 700سے زائد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد4000سے زائد ہوگئی ہے۔ جرمنی اورسری لنکا میں بھی پہلے مریض میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ کرونا وائرس کی تصدیق کرنے والے ممالک کی تعداد 18 ہوگئی ہے۔ چین نے وائرس کودنیا میں پھیلنے سے روکنے کیلئے شہریوں سے بیرون ملک سفرنہ کرنے کی درخواست کردی ہے۔ چین میں وائرس کے بڑھتے خطرے کے باعث اسکول بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

کرونا وائرس ہے کیا؟ 

کرونا وائرس 1960ء  میں پہلی بار  متعارف ہوا۔   اب تک 13 اقسام دریافت ہوچکی ہیں جن میں سے 7 اقسام ایسی ہیں جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتی ہیں۔ کرونا وائرس دودھ دینے والے جانوروں اور پرندوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔یہ انفلوائزا کی ایک قسم ہے جو  ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں منتقل ہوتا ہے جس سے وائرس سے متاثر ہونے والے فرد کو سانس لینے میں تکلیف اور دشواری ہوتی ہے۔ 

کرونا وائرس کی علامات: 

کرونا کی علامات 2 سے 14دنوں کے درمیان سامنے آنے لگتی ہیں  جن میں نزلہ، زکام، کھانسی ، سر اور  تیز بخار شامل ہیں ۔اس سےنمونیہ اور پھیپھڑوں میں سوجن پیدا ہوتی ہے اور سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے ۔

کرونا وائرس سے کیسے بچا جائے: 

صابن سے بار بار ہاتھ دھوتے رہیں، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ وضو کرتے رہنے سے یہ مرض آپ کے قریب بھی نہیں آئے گا۔ 

کھانا پکانے سے قبل اور بعد میں ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھوئیں۔

 کھانا مکمل طور پر پکائیں۔ 

پانی ابال کر زیادہ سے زیادہ پیئں۔

سردی اور زکام کے مریضوں سے دور رہیں۔

پالتو جانوروں سے دور رہیں۔

 کسی کی بھی آنکھ ، چہرے اور منہ کو مت چھوئیں۔ 

وائرس میں مبتلا افراد اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال سے گریز کریں۔

وائرس میں مبتلا افراد کی استعمال شدہ چیزوں کو استعمال سے بچنا ضروری ہے۔ 

فلو وائرس میں مبتلا افراد رومال اور ماسک کا استعمال ضرور کریں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوائٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔