چیف جسٹس کا دودھ ، صاف پانی اور ہسپتالوں پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت


ملک اشرف: چیف جسٹس پاکستان کا دودھ اور صاف پانی اور ہسپتالوں پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت۔ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد سعید نے رپورٹ جمع کرا دی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نے کہا  کہ پہلا موقع دے رہا ہوں ہر کوئی اپنا قبلہ درست کرلے۔  

 چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید، سی ای او صاف پانی کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان، ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل سمیت دیگر افسران پیش ہوئے۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے عدالت میں ہسپتالوں کی ویسٹ کے حوالے سے مفصل رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ شہر میں فضائی آلودگی کے خاتمے اور صفائی کے نظام کو بہتر کرنے کے لئے چھ مقامات پر اربوں روپے کی لاگت سے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگا رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہہ سمجھ میں نہیں آرہا اتنی غلاظت کو صاف کیوں نہیں کیا جارہا۔ شہرکی غلاظت دریائے راوی میں پھینکی جارہی ہے جس سے نزدیکی آبادیوں کا کیا حال ہوگا ؟ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ صفائی کے نظام کو بہتر کرنے کے لئے وزیراعلیٰ سندھ کوطلب کیا یہاں سسٹم بہترنہ ہوا توچیف وزیر اعلی پنجاب کو بھی طلب کرسکتے ہیں۔

 صاف پانی ، اور دودھ پر لئے ازخود نوٹس کیس میں ڈی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے غیر معیاری دودھ کے کئی سیمپل لے کر لیبارٹری بھجوائے۔ نمونوں میں غیر معیاری دودھ بنانے والی کمپنیوں کے خلاف کاروائی کرکے انہیں سیل کیا۔ اگر یہ اپنا معیار بہتر کر لیں تو انہیں ڈی سیل کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

  دودھ فروخت کرنیوالی کمپنیوں کے وکلا نے بند کی گئی کمپنیوں کو کھولنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پاؤڈر ملک کو دودھ کہہ کرفروخت کررہے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ کمپنیوں کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دیا جائے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کویہ لکھناپڑے گا کہ یہ دودھ نہیں ہے۔ جب تک تسلی نہیں ہوگا دودھ کی کمپنیاں نہیں کھلیں گی۔

 دوران سماعت بریسٹر ظفراللہ خان نے کہا غیرمعیاری دودھ کی تشہیر کرنیوالوں کوسزا دی جائے۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ پہلا موقع دے رہا ہوں ہرکوئی اپنا قبلہ درست کر لے۔ قبلہ درست نہ کیا توقانون کےمطابق کارروائی کریں گے۔