لاہور ہائیکورٹ نے بجلی بلوں پر اضافی سرچارجز کی وصولی روک دی

لاہور ہائیکورٹ نے بجلی بلوں پر اضافی سرچارجز کی وصولی روک دی

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ  نے ٹیکسٹائل صنعتوں سے بجلی بلوں پر  عائد اضافی سرچارجز کی وصولی تاحکم ثانی روک دی،  عدالت نے وزارت توانائی  کا نوٹیفکیشن بھی معطل کردیا۔

نامزد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے اپٹما کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار اپٹما کی جانب سے وفاقی حکومت، وزارت توانائی، لیسکو، فیسکو سمیت دیگرز کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ وزارت توانائی کی جانب سے 13 جنوری 2020 کو ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اضافی سر چارجز کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس میں زیرو ریٹڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری پر فیول ایڈجسٹمنٹ، فنانشل کاسٹ سرچارجز اور نیلم جہلم سرچارجز کے نام سے  اضافی سر چارجز عائد کیے گئے، رولز کے مطابق گزشتہ تاریخوں سے اضافی سرچارجز نہیں لگایا جاسکتا، یکم جنوری 2019 سے دسمبر 2019 تک گزشتہ تاریخوں پر سرچارجز عائد کیا گیا۔ درخواست گزار وکیل نے استدعا کی کہ عدالت وزارت توانائی کی جانب سے اضافی سرچارجز وصولی کے اقدام کو کالعدم قرار دے۔

جسٹس محمد قاسم خان نے استفسار کیا کہ وزارت توانائی کا وزیر کون ہے؟ لاء افسر نے جواب دیا کہ عمر ایوب وزیر ہیں، عدالت نے پوچھا اس کے علاوہ معاملات کو کون دیکھتا ہے؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ ایڈوائزر ندیم بابر معاملات کو دیکھتے ہیں۔

جسٹس محمد قاسم خان نےکہا  کہ سنا ہے کہ ندیم بابر خود آئی پی پی کا مالک ہے، سرکاری وکیل تسلی بخش جواب نہ دے سکاجس پر جسٹس محمد قاسم خان نے وزارت توانائی کے ایڈوائزر ندیم بابر کی تعیناتی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ایسے لگتا ہے کہ بلے کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھا دیا گیا ہے، ایسے شخص کو ایڈوائزر لگا دیا گیا جس کے اپنے مفادات ہیں، ایسا شخص ادارے کی بہتری کی بجائے اس کا خون چوس رہا ہے، عدالت نے وفاقی حکومت، لیسکو سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دس مارچ کو جواب طلب کرلیا۔

عدالت نے تمام درخواستیں یکجا کرنے اور کیس کی سماعت کے لئے لارجر بنچ تشکیل دینے کی سفارش کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی۔