لاہور پریس کلب کا الیکشن ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا

لاہور پریس کلب کا الیکشن ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا
City42 - Lahore Press Club Election

(وقار گھمن): لاہور پریس کلب کا الیکشن ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا، گھر کی حرمت پامال کرنے میں بعض صحافیوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔تمام گروپوں نے متفقہ طور پر پرامن طریقے سے اکتیس دسمبر کو الیکشن کی نئی تاریخ دے دی۔

مزید خبریں:ڈالر سستا ہوگیا

تفصیلات کے مطابق ووٹنگ لسٹوں پر اعتراضات کے باعث جرنلسٹ پینل کی جانب سے پولنگ بوتھ کے باہر دھرنا دیا گیا جس کے باعث لاہور پریس کلب الیکشن 2018 کیلئے پولنگ شروع نہ ہوسکی۔ پروگریسو گروپ کی جانب سے پولنگ بوتھ کو کھلوانے کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی ۔دونوں گروپس کی جانب سے ایک دوسرے پر نئی ممبر شپ کے حوالے سے الزام تراشی کی جاتی رہی۔ اپنے ہی بھائیوں کے غیرمہذب روئیے کی تمام گروپس کے رہنماوں نے شدید مذمت کی اور آئندہ خوش اسلوبی سے جمہوری عمل کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔

 الیکشن میں بدمزگی کے بعد تمام پینلز کے رہنماوں نے سرجوڑ لئے جس میں بدنظمی کی پُرزور مذمت کی گئی۔ مذاکرات کے بعد ارشد انصاری ، معین اظہر، شہباز میاں، فیصل درانی اور زاہدشفیق طیب نے31 دسمبر کی تاریخ کا اعلان کیا۔

واضح رہےکہ لاہور پریس کلب الیکشن 2018 کے معرکہ کیلئے  آج صبح 9 بجے پولنگ شروع ہوناتھی جس میں 2 ہزار 6 سو 51 ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کرنا تھا۔ 

مزید جاننے کیلئےو یڈیو دیکھیں