وکلاء جسٹس عائشہ اے ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے حامی نکلے

وکلاء جسٹس عائشہ اے ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے حامی نکلے

ملک اشرف :  ہائیکورٹس کےجونیئر ججز کو سپریم کورٹ تعینات کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ سنئیر وکلا کی رائے سامنے آگئی ، عدالت عظمیٰ میں ججز کی تقرری کے قوائد میں سنیارٹی کا اصول موجود نہیں. سپریم کورٹ میں  تقرری اہلیت کی بنیاد پر ہونی چاہیے:سینئر وکلا کی رائے

 تفصیلات کے مطابق  ہائی کورٹس کے جونئیر ججز کو سپریم کورٹ تعینات کیا جا سکتا ہے یا نہیں پر   وکلا کے درمیان  بحث و مباحثہ جاری ہے.ایک جانب وکلا رہنما سینئرججزکو سپریم کورٹ بھجوانےکےحامی ہیں  تو دوسری  جانب سینئرایڈووکیٹ سیلمان اکرم راجہ سمیت  وکلاء کی بڑی تعداد اہلیت کو بنیاد پر عدالت عظمیٰ میں ججز تقرری کے حق میں ہیں.وکلاء کی اکثریت جسٹس عائشہ اے ملک کی سپریم کورٹ تقرری کی حامی ہے جبکہ وکلا کے مطابق ماضی میں روایات موجود ہیں کہ  سپریم کورٹ میں جونیئر ججز کی تقرریاں کی گئیں.

لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس خواجہ شریف کے ہوتے ہوئے جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کو عدالت عظمیٰ کا بطور جج تقرر کیا گیا. سپریم کورٹ میں آج تک کبھی کوئی خاتون جج کی تقرری نہیں ہوئی.سینئر ایڈووکیٹ منصوراعوان کا کہنا ہے کہ اہلیت کی بنیاد پر جسٹس عائشہ کی سپریم کورٹ تقرری درست فیصلہ ہے،خواتین وکلا بھی جسٹس عائشہ کے سپریم کورٹ میں تعیناتی کی حامی ہیں، سنیارٹی کا اصول چیف جسٹس کے تقرر کے لیے ضروری ہیں ۔سپریم کورٹ میں جج کی تعیناتی کے لئے نہیں، ماضی میں جواد ایس خواجہ اور ایم اے شاہد صدیقی کی مثالیں بھی موجود ہیں جنہیں ہائیکورٹ کا حاضر سروس جج نہ ہونے کے باوجود عدالت عظمی کا جج بنایا گیا.

سنئیر ایڈوو کیٹ سپریم کورٹ حامد خان کا کہنا ہے کہ ججز کی تعیناتی میں سنیارٹی کے اصول کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے،جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال کی جانب  سے ملک کی اعلی عدلیہ میں خواتین ججز کی ایک تہائی نمائندگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔. سینئر ایڈووکیٹ منصور اعوان کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا اہلیت کی بنیاد پر جسٹس عائشہ کی سپریم کورٹ تقرری کے لئے نامزد کرنے کا درست فیصلہ ہے۔