پنجاب میں آکسیجن کی کمی کا خدشہ، خطرے کی گھنٹی

پنجاب میں آکسیجن کی کمی کا خدشہ، خطرے کی گھنٹی
کیپشن: Oxygen
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

علی رامے: لاہور سمیت پنجاب میں کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، پی کے ایل آئی، میو اسپتال اور ایکسپو سینٹر میں بھی آکسیجن کی فراہمی مسئلہ بن گئی، ایپکس کمیٹی کو آکسیجن کے استعمال میں اضافے بارے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کی بریفینگ، ایکسپو سینٹر اور میو ہسپتال میں وینٹی لیٹر کی فراہمی ہو سکتی ہے لیکن آکسیجن کی فراہمی میں مشکلات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وینٹی لیٹر پر کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، جس سے آکسیجن کے استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جناح ہسپتال آکسیجن کا استعمال 300 فیصد، سروسز ہسپتال میں آکسیجن کے استعمال کی شرح 316 جبکہ میو ہسپتال میں آکسیجن کے استعمال کی شرح 329 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جناح ہسپتال میں 10 ہزار،سروسز ہسپتال میں 9 ہزار کیوبک میٹر اکسیجن کا استعمال ہو رہا ہے۔ میو ہسپتال میں 15 ہزار کیوبک میٹر تک آکسیجن کا استعمال بڑھا چکا ہے، لیکن صرف آر آئی سی راولپنڈی ہی آکسیجن کی پیداوار کررہا ہے جو موجود استعمال کے لحاظ سے کم ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کورونا مریضوں کو آکسیجن کی فراہمی بحران کی صورت اختیار کرنے لگی ہے۔  

حکومت پنجاب کو وینٹی لیٹرز کی کمی کے حوالے سے بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔جس میں بتایا گیا گیا 264 وینٹی لیٹر میں سے صرف 30 اس وقت شہر کے بارہ سرکاری ہسپتالوں میں خالی ہیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سروسز ہسپتال،کوٹ خواجہ سعید اور نواز شریف ٹیچنگ ہسپتال 100 فیصد بھر چکے ہیں۔میو ہسپتال میں 98 فیصد وینٹی لیٹر پر  کورونا کے مریض ہیں۔سر گنگا رام,جناح ہسپتال اور جنرل ہسپتال میں 90 فیصد وینٹی لیٹر پر کرونا کے مریض ہیں۔  لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں 234 وینٹی لیٹر پر  کورونا کے مریض ہیں۔