وزیر صحت کا کورونا ٹیسٹ کی سہولت میں اضافے کا دعویٰ

( بسام سلطان ) وزیر صحت یاسمین راشد نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے لیے خدمات سرانجام دینے والے طبی عملہ کو ایک ماہ کی زائد تنخواہ دی جائے گی۔ جان کی بازی ہارنے والوں کو شہادت کا درجہ اور چار سے آٹھ ملین کا پیکج دیا جائے گا، سیکرٹری ہیلتھ کہتے ہیں ڈاکٹر فرنٹ لائن سولجر ہیں اب تک چالیس کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ نبیل اعوان اور پرائمری ہیلتھ کیپٹن ر عثمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ صوبے میں پچہتر ہزار دو سو انتیس ٹیسٹ ہوئے، سات لیب فعال ہیں جبکہ مزید تین بنائی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ طبی عملے کو ایک ماہ کی زائد تنخواہ دی جائے گی اور شہدا کے لئے چار سے آٹھ ملین کا پیکج مختص کردیا ہے۔

سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر نبیل اعوان نے کہا کہ ڈاکٹرز فرنٹ لائن سولجر ہیں رسک کٹ کر خدمت دے رہے ہیں انہیں خراج تحسین پیش کرنی چاہیے تاہم پانچ اعشاریہ ایک سو چوہتر ارب مہیا کیا اور چھیانوے کروڑ ہسپتالوں کو دئیے اور چالیس کروڑ روپے اب تک خرچ کیے جاچکے ہیں۔

سیکرٹری پرائمری ہیلتھ کئیر کیپٹن عثمان نے بتایا کہ سمارٹ ٹیسٹنگ لاہور سے شروع کی جارہی ہے جہاں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہےعلاقہ تلاش کرکے سمارٹ ٹیسٹنگ کی جائے گی۔ 

یاد رہے پنجاب حکومت نے کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے سمارٹ سیمپلنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، وزیرعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ اس طریقہ سے مستقبل کے فیصلوں، لائحہ عمل پر آراء دینے کیلئے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ شروع میں حکومت کی توجہ مختلف قرنطینہ مراکز میں ٹھہرائے گئے افراد کے ٹیسٹ کرنے پر تھی، اب سسٹم پر بوجھ نسبتاً کم ہونے اور ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھنے سے حکومت سمارٹ سیمپلنگ سے لوکل کمیونٹی میں وائرس کی موجودگی کا بہتر جائزہ لے سکی گی۔