لاک ڈاؤن میں سختی کے باوجود خلاف ورزی جاری

لاک ڈاؤن میں سختی کے باوجود خلاف ورزی جاری

(فہد علی)کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے شہر میں لاک ڈاؤن کا 36 واں روز ہے۔ پولیس نے لاک ڈاؤن میں سختی کر دی مگر شہری خلاف ورزی ہی کرتے رہے ۔

تفصیلات کے مطابق شہر بھر میں لاک ڈاؤن کے باعث جگہ جگہ پولیس کی جانب سے ناکہ بندی کی گئی مگر رمضان المبارک کے مہینہ ہونے کے باجود سڑکیں آباد رہیں ۔ جگہ جگہ ناکوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کی جانب سے ڈبل سواری اور لوکل ٹرانسپورٹ کیخلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیا جبکہ سفر کرنے والی فیملیز اور شہریوں کو روک کر گھر وں میں رہنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات بھی گئی۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن شہریوں کی حفاظت کیلئے کیا گیا ہے تو شہریوں کو چاہیے کہ خود کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے گھروں میں رہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں نرم لاک ڈاؤن چھٹی کے روز اچانک سخت ہو گیا،پولیس فورس نے ختم کئے ناکے بحال کرکے شہریوں کو فوری نقل وحرکت سےروکدیا،تمام ایس ایچ اوز ڈی ایس پیز ناکہ جات پر پہنچ گئے۔مال ،جیل اور فیروز پورروڈ سمیت اہم علاقوں میں اہلکاروں کا ڈبل سواری گھومنے والوں کےخلاف سخت ایکشن ، فور وہیل میں دو سے زیادہ افراد کے سفر پر بھی پوچھ گچھ شروع کردی گئی، بیشتر شہریوں کو واپس بھیج دیا۔

ایس ایس پی آپریشنزفیصل شہزاد کےمطابق شہربھرمیں جزوی لاک ڈاؤن میں سختی کردی گئی ہے،ناکوں پرغیرضروری سفرکرنے والوں کو واپس  بھجوایا جا رہا ہے۔ٹریفک پولیس کی ڈبل سواری اورکار میں دو سے زائد سوار ہونے پرکارروائیاں بھی جاری ہیں۔ایس ایس پی آپریشنز کا کہناتھا کہ شہریوں کی بڑی تعداد چھٹی کےروز گھروں سے باہر نکل آئی تھی،سختی کرنے کا مقصد شہریوں کی نقل وحرکت کو محدود کرنا ہے،ایس ایس پی آپریشنز کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئےسماجی فاصلوں پر عمل کرنا ہوگا۔

قبل ازیں  کورونا وائرس کے خوف کے باوجود  زندگی کا  پہیہ رواں دواں ہونے کی وجہ سےپنجاب حکومت  نے  لاک ڈاون میں سختی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے شہر میں لگائے گئے جزوی لاک ڈاون میں معمول کے مطابق ٹریفک  کی روانی معمول کے مطابق جاری تھی۔ناکوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کی جانب سےسختی کی جارہی ہے،غیر ضروری باہر نکلنے والوں کے خلاف پولیس کی جانب سے کارروائیاں بھی جاری  ہیں۔ڈبل سواروں کے خلاف بھی کاروائیاں مزید سخت کردیں گئیں ہیں۔