ٹوئٹر نے لاکھوں اکاؤنٹس بند کردیے

ٹوئٹر نے لاکھوں اکاؤنٹس بند کردیے

(سٹی42)لاک ڈاؤن کی وجہ سے سوشل میڈیا کا ستعمال کافی بڑھ گیا ہے، کورونا وائرس کے خلاف آگاہی رکھنے والا ہر شخص سوشل میڈیا کے ذریعے کچھ نہ کچھ معلومات اپلوڈ کرتا ہے،مگر حیران کن بات یہ ہے کہ ٹوئٹر لاکھوں صارفین کے اکاؤنٹس بند کردیے۔

 تفصیلات کے مطابق  سوشل میڈیا ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری زندگی میں اہمیت اختیار کر رہا ہے جہاں خبروں او ر معلومات کے لیے کروڑوں افراد آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ ٹوئٹر اور فیس بک اس دور کی مقبول ترین ویب سائٹس ہیں جن کے کروڑوں صارفین دنیا بھر میں موجود ہیں۔ فیس بک پر موجود لوگوں کو اگر ایک ملک کی آبادی کے مطابق جانچا جائے تو یہ دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے اور سوشل میڈیا ویب پرحاوی ہے جبکہ جسٹن بیبر، کیٹی پیری اور لیڈی گاگا کے ٹوئٹر فالوورز جرمنی، ترکی، جنوبی افریقہ، ارجنٹائن، مصر اور کینیڈا کی آبادی سے زیادہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہر قسم کی بات کی جا سکتی اور ہر نسل اور رنگ کے لوگ اپنی پسند کے مطابق لوگ ڈھونڈ سکتے ہیں جن کے ساتھ تعلقات بہت بار حقیقی زندگی کے تعلقات میں بدل جاتے ہیں۔

 ٹوئٹر ایک مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ہے جس کی تعریف سے ظاہر ہے کہ یہ مختصر طور پر اظہار رائے کی جگہ ہے۔ اس ویب سائٹ پر آپ اپنی رائے کا اظہار ایک سو چالیس حروف میں کرتے ہیں۔ اس پر آپ اپنی پسند کے اداروں اور شخصیات اور کئی دوسری پسند کی چیزوں پر نظر رکھ سکتے ہیں اور یہ دنیا میں ہونے والے حالات و واقعات پر نظر رکھنے کا سب سے بہتر ذریعہ ہے۔

مگرسماجی رابطوں کی مقبول مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر نے ٹوئٹر ایس ایم ایس سروس بند رکھتے ہوئے خاموشی سے لاکھوں اکاؤنٹس بند کردیے۔ گزشتہ برس ستمبر میں ٹوئٹر کمپنی کی جانب سےاعلان کیا تھا کہ صرف چند مقامات کے علاوہ پوری دنیا میں ٹوئٹر ایس ایم ایس سروس یعنی موبائل پیغامات سے ٹوئٹ کرنا بند کردیے گئے ہیں۔

 ٹوئٹر کمپنی حکام کی جانب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایس ایم ایس کے ذریعے ٹوئٹر اکاؤنٹس پرحملہ ہونے کا خطرہ ہے جس کی وجہ سےٹوئٹر شیئر ایس ایم ایس سروس پر پابندی برقرار رکھی ہے۔ صارفین کو اہم پیغامات جیسے اکاؤنٹ لاگ ان اور انہیں مینیج کرنے والے پیغامات تک رسائی ہوگی۔

واضح رہے کہ ٹوئٹر کمپنی نے یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا تھا جب گزشتہ برس ٹوئٹر کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) جیک ڈورسی کا اکاؤنٹ ہیک کیا گیا تھا۔