شادباغ میں قتل کی لرزہ خیز واردات

شادباغ میں قتل کی لرزہ خیز واردات

(فخرامام)شہر میں لاک ڈاون اور   رمضان میں جرائم بڑھنے کے خدشات کے پیش نظر اہلکاروں کی تعیناتی کی جارہی ہے،سکیورٹی اداروں کی جانب سے موثر حکمت عملی کے باجود قتل جیسی وارداتیں ہورہی ہیں،تھانہ شادباغ کی حدود میں ایسی ہی لرزہ خیزواردات ہوئی جہاں نامعلوم افراد نے کار سوار پرگولیاں چلادیں۔

تفصیلات کے مطابق واقعہ شادباغ کے علاقے بند روڈ خوفناک واقعہ پیش آیا ،جہاں نامعلوم افراد نے کار سوار پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے باعث کار میں سوارشہری موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ مقتول کی شناخت ملک امان اللہ کے نام سے ہوئی ہے ۔ واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔ پولیس کے مطابق واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے، تاہم تفتیش جاری ہے جلد حقائق سامنے لے آئیں گے۔

واضح رہے کہ لاک ڈاؤن کے باوجود رمضان میں جرائم کی وارداتوں میں اضافے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے، جنوری سے ابتک قتل کی 118 وارداتیں، 11 کو ڈکیتی مزاحمت پر گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ گزشتہ دنوں شاد باغ میں تاجر سے دس لاکھ، شاہدرہ میں نوجوان سے ڈیڑھ لاکھ، لیاقت آباد میں کیشیئر حافظ فاروق کو لوٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔لاہور میں لاک ڈاؤن کے دوران بھی سٹریٹ کریمنلز نے خوف پھیلائے رکھا، جگہ جگہ ناکوں کے باوجود ڈاکوؤں نے تقریباً ایک ماہ کے عرصے میں مزاحمت پرچار افراد کو قتل کر دیا۔

رواں سال کے دوران 118 افراد کو مختلف واقعات میں قتل کیا گیا۔جن میں سے 15 افرادڈاکوؤں کے ہاتھوں موت کا شکار  بنے، ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں میں کروڑوں روپے بھی لوٹ  لیے گئے۔لاک ڈاون سے پہلے15  دنوں میں 18 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، کاروباری بندش کے دنوں میں بھی 124 افراد  ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں مال سے محروم ہوئے، جبکہ لاک ڈاون سے قبل 15 دنوں میں 164 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، اسی طرح گاڑی و موٹرسائیکل چوری کی 312 وارداتیں لاک ڈاؤن کے دوران ہی رپورٹ ہوئیں۔