چوہدری پرویز الہیٰ اپنی ہی حکومت پر برس پڑے

چوہدری پرویز الہیٰ اپنی ہی حکومت پر برس پڑے

( سٹی 42 ) سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کی گندم کی قیمت کم بڑھانے پر اپنی ہی حکومت پر تنقید، کہتے ہیں گندم کی امدادی قیمت 200 روپے بڑھا کر کسانوں کا مذاق اڑایا گیا۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ فی من گندم کی قیمت کم از کم 2 ہزار مقر کی جائے، کسان ملک کو غذائی اشیاء فراہم کرتا ہے اور کسان اس وقت شدید معاشی مشکلات کاشکارہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلیف نہ ملا تو کاشتکار گندم کی کاشت بند کردینگے۔ ملک میں گندم کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ کسانوں کیلئے کھاد، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کی جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مارکیٹ میں گندم 2400 فی من فروخت ہو رہی ہے، گندم کے معاملے پر پنجاب کو خود کفیل بنانا ہوگا۔

وزیراعلی پنجاب نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کسان دوست پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے گندم کہ اگلی فصل کی کم از کم قمیت میں دو سو روپے اضافہ کے ساتھ 1600 روپے فی من مقرر کی ہے۔ وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومت نے گندم کی قیمت کو 1300 رکھا ہوا تھا۔ 

دوسری جانب پنجاب حکومت نے فلور ملز کیلئے گندم کا کوٹہ بڑھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حکومتی فیصلے کے مطابق 25 ہزار ٹن گندم روزانہ فلور ملوں کو فراہم کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ فلور ملوں کیلئے گندم کا کوٹہ بڑھانے کا فیصلہ صوبے کے عوام کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا۔ اس اقدام سے آٹے کی قیمت میں استحکام آئے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں 20 کلو آٹے کا تھیلا 860 روپے میں دستیاب ہے۔ آٹے کی قیمتوں اور فلور ملوں کو گندم کے اجراء کو ذاتی طور پر مانیٹر کررہا ہوں۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھاتے رہیں گے۔