اساتذہ کیلئے بری خبر، بھرتی کی پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ

 اساتذہ کیلئے بری خبر، بھرتی کی پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ

(جنید ریاض) محکمہ سکول ایجوکیشن نے اساتذہ کی بھرتی کے حوالے سے پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا، آئندہ اساتذہ کی بھرتی مستقل بنیادوں کی بجائے عارضی طور پر کی جائے گی، صوبہ بھر کے سکولوں میں اس وقت ستر ہزار اساتذہ کی فوری ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ سکول ایجوکیشن نے اساتذہ کی بھرتی کے حوالے سے پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی 70 ہزار اسامیاں خالی ہیں۔آئندہ اساتذہ کی بھرتی مستقل بنیادوں کی بجائے عارضی طور پر کی جائے گی۔ اساتذہ کی نئی بھرتیاں صرف ایک سے دو سال کے کنٹریکٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی۔خراب کارکردگی پر اساتذہ کے کنٹریکٹ میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا ہے کہ صرف کارکردگی کی بنیاد پر ہی کنٹریکٹ میں اضافہ کیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت پنشن کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی۔ اساتذہ نے مراد راس کے بیان کی پرزوزمذمت کرتے ہوئےکہاہےکہ اس فیصلے سے بے روز گاری بڑھے گی۔ یادرہےکہ مذکورہ پالیسی کےخلاف 7 اساتذہ یونینز نے 4 نومبر کومحکمہ سکول ایجوکیشن کے باہر احتجاج کا پہلے سے اعلان کررکھا ہے۔

دوسری جانب سکول ایجوکیشن کا  پینشن بچت پلان کے تحت سرکاری سکولوں میں پارٹ ٹائم کوچز رکھنے کا فیصلہ کرلیا،پروگرام مانیٹرنگ اینڈ ایمپلمنٹیشن یونٹ نے سکولوں سے پی ٹی سی ٹیچرز رکھنے کیلئے تعداد مانگ لی۔پی ٹی سی ٹیچرز کو 6 ماہ کیلئے سکولوں مین رکھا جائے گا۔اچھی کارکردگی پر کنٹریکٹ میں توسیع دی جائے گی۔

پی ٹی سی ٹیچر کو قابلیت کے مطابق 20 سے 40 ہزار روپے تنخواہ دی جائے گی۔پی ٹی سی ٹیچرز کی بھرتی کیلئے محکمہ خزانہ سے بجٹ کی منظوری کیلئے مراسلہ جاری کردیا۔بھرتیوں کا عمل آئندہ تعلیمی سال کیلئے کیا جائے گا۔