کورونا وائرس نے لاہور میں پنجے گاڑ لیے، متاثرہ مریضوں کی تعداد 103 ہوگئی

کورونا وائرس نے لاہور میں پنجے گاڑ لیے، متاثرہ مریضوں کی تعداد 103 ہوگئی

(سٹی 42) چین کے صوبے ووہان سے جنم لینے والی خطرناک بیماری کورونا وائرس دنیا کے190 سے زائد ممالک میں پھیل چکی ہے، دنیا بھر میں اب تک اس وائرس سے  5 لاکھ افراد متاثر  جبکہ 23 ہزار سےزائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد  1200 ہوگئی

پاکستان کو بھی کورونا وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، وائر س سے ایک اور مریض جاں بحق، ملک بھر میں مرنے والوں کی تعداد 9 جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 1200 ہوگئی،  پاکستان میں 121 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے پنجاب میں 82، بلوچستان میں 12، اسلام آباد میں 9، سندھ میں 8 ، گلگت بلتستان میں 7، خیبر پختونخوا میں 2 اور آزاد کشمیر میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق لاہورمیں کوروناکے مریضوں کی تعداد 103 اور پنجاب میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 405 ہوگئی ہے، کورونا وائرس کےتمام مریض آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں، پاکستان میں مہلک وائرس سے اب تک 21 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں ۔

 ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر  نےعوام سے گزارش کی ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں، گزشتہ 14 روز میں متاثرہ ممالک سے آئے افراد گھر میں آئسولیشن اختیار کریں،متاثرہ ممالک سے آئے افراد میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔

لاک ڈاؤن کا چوتھا روز

 عالمی ادارہ صحت کی جانب سے عالمی سطح پر میڈیکل ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی جس کے بعد ہر ملک کی جانب سے کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں، پنجاب حکومت  کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لاہور سمیت صوبے بھر  میں 14 روز کیلئے لاک ڈاؤن کردیا گیا، آج لاک ڈاؤ ن کا چوتھا روز ہے ، پنجاب کی مارکیٹیں، پلازے، سینما ہالز، تعلیمی ادارے سب بند ہیں، ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے۔

کورنا وائرس کی علامات کیا ہیں؟

ذرائع کے مطابق کورونا وائرس بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے، یہ وائرس سانس کے ذریعے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔

اس جان لیوا وائرس سے بچنے کیلئے طبی ماہرین کی جانب سے لوگوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ لوگوں سے ہاتھ ملانے ، میل جول اور خاص طور پر انجان لوگوں سے دور رہیں۔