لاہور ہائیکورٹ کا انکم ٹیکس آڈٹ کے حوالے سے بڑا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کا انکم ٹیکس آڈٹ کے حوالے سے بڑا فیصلہ

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آرکا وجوہات بتائے بغیر کسی ٹیکس گزار کو آڈٹ سلیکشن میں شامل کرنے کا اقدام کالعدم قرار دیدیا، آڈٹ سلیکشن کیلئے انکم ٹیکس کے سیکشن 214 سی کے تحت سلیکشن کی وجوہات نہ بتانے والی شق کوغیرقانونی قرار دیدیا گیا۔

 تفصیلات کے مطابق جسٹس عابد عزیز شیخ نے 2 سو سے زائد درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا، درخواستگزاروں کی جانب سے محمد محسن ورک ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلاء پیش ہوئے، محمد محسن ورک سمیت دیگر وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ ٹیکس گزار کو وجوہات بتائے بغیر آڈٹ میں سلیکٹ کرنا آئین کے آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔

محمد محسن ورک ایڈووکیٹ نے مزید کہاکہ ٹیکس گزار کو وجوہات بتائے بغیر آڈٹ میں سلیکٹ کرنا پہلے سے جاری عدالتی فیصلوں کی بھی خلاف ورزی ہے، انہوں نے استدعا کی کہ عدالت ایف بی آر کی آڈٹ سلیکشن کے موجودہ طریقہ کار کو کالعدم قرار دے۔

ایف بی آر کی جانب سے وکلاء نے موقف اختیار کیاکہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی ٹیکس گزاروں کو آڈٹ سلیکشن میں شامل کیا، پارلیمنٹ کی منظوری سے ہی 214 سی میں ضمنی دفعہ 1اے شامل کی۔

عدالت نے ایف بی آر کی جانب سے بغیر وجہ بتائے سلیکشن کیلئے بھجوائے نوٹس کالعدم قرار دیتے ہوئے کہاکہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 214 سی کی ضمنی دفعہ 1 اے آئین کے آرٹیکل 19 اے سی متصادم ہے، عدالت نے ایف بی آرکے ٹیکس ریکوری کے طریقہ کار کیخلاف دائر درخواستوں کو منظور کرلیا۔