لاہور کو پیرس بنانے کے خواب چکنا چور، شہر مسائل کا گڑھ بن گیا

لاہور کو پیرس بنانے کے خواب چکنا چور، شہر مسائل کا گڑھ بن گیا


سٹی (42 نیوز) لاہور پیرس نہ بن سکا، شہر مسائل کا گھڑ بن گیا، بارش کے باعث شہر جوہڑ کا منظر پیش کرنے لگا، سکول کے باہر گندگی کے ڈھیر، سیوریج کے کھڑے پانی سے مکین پریشان، سابق حکومت میں بنی سڑک ایک بارش برداشت نہ کرسکی، شہر بھر میں تجاوزات کی بھرمار، پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں ہے۔

سٹی 42 نیوز ذرائع کتے مطابق این اے 125 کے علاقے منظور پارک میں سیوریج کے کھڑے پانی سے مکین پریشان، تالاب نما سڑک  مریم نواز کے حلقہ کی ہے۔ جہاں بارش ہو یا نہ ہو، مگر منظر کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن3بجے 15 نومبر 2018  

مکینوں کا کہنا ہے کہ گٹر کا پانی جمع ہونے سے بچے اور مزدور مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں، جبکہ واسا شکایت کے باوجود مسئلہ حل کرنے میں دلچسپی نہیں لیتا ہے۔

پی پی 159 ماڈل ٹائون کی سڑکیں بھی بارش کے بعد ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ شہر کا سب سے پوش علاقہ بھی مسافروں کے لئے جگہ جگہ رکاوٹ کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔        

یہ بھی دیکھیں: 

سابق وزیر اعلی میاں شہباز شریف کی رہائش گاہ سے چند قدم کی مسافت پر سڑکوں کا ندی نالوں کا منظر پیش کرنا لاہور کو پیرس بنانے کے خواب اور دعووں سے متضاد نظر آتا تھا۔ سڑکوں پر کھڑے بارش کے پانی سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

بارش نے صوبائی حلقہ 154 میں بھی سابق حکمران جماعت کی کارکردگی کا پول کھول دیا، جگہ جگہ گندگی اور پانی جمع ہونے سے علاقہ بدحالی کا منظر پیش کرنے لگا۔

بارش سے جمع شدہ پانی تو ایک جانب حمید پورہ میں کھُلے مین ہولز کسی بھی وقت کسی بڑے حادثہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ سٹی فورٹی ٹو کی نشاندہی پر متعلقہ ادارے متحرک ہوئے اور عرصہ سے کھُلے مین ہولز پر ڈھکن لگادئیے گئے۔ علاقائی مسائل تو ایک جانب دوسری جانب علاقہ مکین کہہ رہے ہیں کہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور آئندہ بھی ووٹ مسلم لیگ ن کو ہی دیں گے۔

یہ ویڈیو بھی لازمی دیکھیں: 

دوسری جانب صوبائی حلقہ 144 میں تجاوزات کی بھرمار، جگہ جگہ کھڑے ریڑھی بانوں کی وجہ سے گھنٹوں ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا۔ پی پی 144 کے مکین مسائل کی وجہ سے شدید پریشان ہیں۔ مکینوں کا کہنا تھا کہ بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کو حکومت ہر دور میں نظر انداز کرتی آئی ہے ان میں تجاوزات سرفہرست ہے جس سے اہل علاقہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

علاوہ ازیں سابق حکومت میں بنی سڑک ایک بارش برداشت نہ کر سکی، کھوکھر چوک جوہر ٹاؤن میں ٹرک زمین میں دھنس گی۔ تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ ادارے سڑک میں لگائے گئے معیاری میٹریل کے استعمال کو یقینی بناتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔

یہ ویڈیوبھی دیکھیں: 

دوسری جانب پی پی 164 میں ہڈیارہ ہائی سکول کے باہر گندگی کے ڈھیر لگ گئے، سکول کی دیواریں کوڑا دان کا منظر پیش کرنے لگیں۔ سکول میں زیر تعلیم بچے بھی گندگی کی وجہ سے پریشان ہیں۔

علاوہ ازیں ووٹوں کا سیزن تو آگیا مگر صاف پانی نہیں آیا، عوامی نمائندوں کی تختیوں کے نیچے پڑے ناکارہ منصوبے صاف پانی کی فراہمی کے دعوؤں پر سوال اٹھانے لگے، پی پی 162 مدینہ کالونی میں واٹر فلٹریشن پلانٹ خستہ حالی کا شکارہے۔

لیگی نمائندوں خواجہ احمد حسان اور خواجہ سلمان رفیق کی جانب سے افتتاح کردہ واٹر فلٹریشن پلانٹ اپنی آخری سانسیں لینے لگا، فلٹریشن پلانٹس صاف پانی فراہم کرے یا نہ کرے مگر پلانٹ کے اندر اور دیواروں کے ساتھ پڑا کوڑے کرکٹ علاقہ مکینوں کو بیماریاں ضرور بانٹ رہا ہے۔

دوسری جانب فلٹریشن پلانٹ پر لگی چھ میں سے پانچ ٹوٹیاں تو سرے سے ہی غائب ہیں اور بچی ہوئی ایک ٹوٹی بھی خراب ہے۔ جس پر اینٹ رکھیں تو پانی بند، اٹھائیں تو آنا شروع ہو جاتاہے۔ اس کے باوجود انتظامیہ آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے اس پلانٹ کی صورتحال جوں کی توں ہے۔