لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، پکی قبریں بنانے پر پابندی عائد

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، پکی قبریں بنانے پر پابندی عائد


ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے میانی قبرستان میں پکی قبریں بنانے پر پابندی عائد کردی۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:بولو لاہور 20نومبر 2018    

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے میانی قبرستان کمیٹی کی درخواست پر سماعت کی ۔ اسٹنٹ کمشنر سٹی صفدر ورک ، صدر لاہور ہائیکورٹ بار کے علاوہ عدالتی کمیشن کے رکن عبداللہ ملک سمیت دیگر پیش ہوئے ۔ دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ میانی صاحب قبرستان میں پکی قبریں بنانے سے اضافی جگہ ضرورت ہوتی ہے جس سے دوسرے شہریوں کی حق تلفی ہورہی ہے اس حوالے سے علمااکرام نے بھی فتویٰ جاری کیے ہیں کہ اسلام میں پکی قبریں بنانے کی ممانعت ہے۔

اسٹنٹ کمشنر سٹی صفدر ورک نے عدالت کو میانی قبرستان میں غیر قانونی احاطوں کے خلاف کی گئی کاروائی بارے آگاہ کیا،اے سٹی نے کہا کہ عدالت کے میانی قبرستان میں پکی قبریں نہ بنانے کے حکم پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے ۔ ایڈووکیٹ عبداللہ ملک کا کہنا تھا کہ عدالت کا پکی قبریں بنانے پر پابندی عائد کرنا خوش آئند ہے ۔عدالتی احکامات پر میانی قبرستان میں ناجائز قابضین سے اراضی واگزار کروائی گئی۔ عدالت نے فوری طور پر میانی صاحب قبرستان میں پکی قبریں بنانے پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔