لاہوریوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

(فہد علی)باغوں کے شہر لاہور میں آلودگی بڑھنے لگی، دریائے راوی کی خوبصورتی بھی ماند پڑنے لگی۔ماہرین نے شہریوں کے لئے اہم ہدایات جاری کردیں۔

تفصیلات کے مطابق موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی مختلف بیماریوں نے بھی لاہور کا رخ کرلیا،کورونا، سموگ کے بعد آلودگی نے لاہوریوں کو لپیٹ میں لے لیا، گزشتہ روزایئرکوالٹی انڈکس350ریکارڈ کیاگیا،شہریوں کا آلودہ ماحول میں سانس لینا دشوار ہوگیا،بند روڈ کے اطراف میں فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں سے ایئر کوالٹی470تک پہنچ گئی۔

موسم کے تبدیل ہوتے ہی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودگی سے گلے اور آنکھوں کی بیماریاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ماہرین نے شہریوں کو ہدایات کی ہیں کہ بلاوجہ گھروں سے باہر مت نکلیں، اگر نکلنا ہی ہے تو چہرے کو اچھی طرح ڈھانپ کر نکلیں، ماسک کا استعمال کریں تاکہ آلودگی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچا جا سکے۔ بصورت دیگر بیماریوں کے حملہ آورہونے کاامکان ہے،شہر بھر میں دھواں چھوڑتی گاڑیاں اور فیکٹریوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں آلودگی کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔

آلودگی کے ساتھ سموگ کو بھی خطر ناک قرار دیا گیا کیونکہ یہ نومولود بچوں میں جسمانی معذوری کا باعث بنتی ہے، اس کی وجہ سے پودوں میں آکسیجن کی پروڈکشن کم ہوجاتی ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث کرہ ارض پر بسنے والے جاندار تو متاثر ہوتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ فصلوں کی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے۔اس سے دریائے راوی کی خوبصورتی بھی ماند پڑتی نظر آرہی ہے۔

ادھر محمود بوٹی کے مکینوں کا ٹائر جلانیوالی فیکٹریوں کےخلاف احتجاج کیا،مظاہرین بولے فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں سے سانس لینا محال ہے،محکمہ ماحولیاتی آلودگی کے افسر شکایات کے باوجود ایکشن نہیں لے رہے۔عوامی کولڈ سٹوریج، ریاض انڈسٹری کے نام پر ٹائر جلانے کا کام ڈھٹائی سے جاری ہے،فیکٹریوں کے خلاف محکمہ ماحولیاتی آلودگی کو درخواست دی مگر شنوائی نہ ہوئی۔

مکینوں نے مزید کہا کہ محکمہ کے افسر رشوت لے کر فیکٹری کو دوبارہ کھول دیتے ہیں،زہریلے دھوئیں سے بچوں اور بزرگوں کو سانس کے مسائل کا سامنا ہے۔