دفاعی مقاصد کی زمین کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ چیف جسٹس پاکستان

دفاعی مقاصد کی زمین کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ چیف جسٹس پاکستان
CJ SC

24 نیوز: چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے دفاعی مقاصد کے لیے دی جانے والی زمین تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے متعلق مقدمے میں سیکریٹری دفاع کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ جائیں تمام چیفس کو بتادیں کہ دفاعی مقاصد کی زمین کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دفاعی مقاصد کے لیے دی جانے والی زمین تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے متعلق معاملے کی سماعت کراچی رجسٹری میں ہوئی جہاں سیکریٹری دفاعی نے استفسار کیا گیا کہ آپ کے پاس تحریری رپورٹ ہے؟۔ جس پر سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ہلال حسین نے تحریری رپورٹ جمع کرانے کے لیے مہلت مانگی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیےکہ زمین پر شادی ہالز، سینما، ہاؤسنگ سوسائٹیز بنادی کیا یہ دفاع کے لیے ہے، جتنے بھی عسکری ہیں وہ چھاؤنی کی زمین پر بنے ہوئے ہیں، ایک کرنل اور میجر بادشاہ بنا ہوا ہے، وہ جو چاہتے ہیں ہو جاتا ہے۔جس پر سیکریٹری دفاع نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔

دوران سماعت عدالت نے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ہم اس کیس کو منگل والے دن سپریم کورٹ اسلام آباد میں سنیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو زمین دی گئی ہے اور آپ زمین پر کیا چلارہے،زمین اسٹرٹجیک مقاصد اور دفاع کے لیے دی گئی تھی آپ نے اس پر کمرشل سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔

جسٹس قاضی امین نے سیکریٹری دفاع کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دے کہ یہ آپ کیا کہے رہے جو کیا ہے وہ سب ختم کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ تمام چیفس کو بتادیں کہ دفاعی مقاصد کی زمین کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ تمام فوجی چھاؤنیوں میں جائیں اور بتائیں زمین صرف اسٹرٹیجک مقاصد کے لیے استعمال ہوگی، مسرور بیس کیماڑی اور فیصل بیس سب کمرشل کیا ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دے کہ سائن بورڈز ہٹانے کا کہا تو اس کے پیچھے بڑی بڑی بلڈنگز بنادی گئیں۔

عدالت عظمیٰ نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت 30 نومبر کو اسلام آباد میں ہوگی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پی ای سی ایچ سوسائٹی میں غیرقانونی الاٹمنٹ کیس میں سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکریٹری ورکس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ منسٹری آف ورکس نے تمام سوسائٹیز کے لے آؤٹ پلان غائب کردیے، ان لے آؤٹ کو اب تبدیل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں ہرجگہ کو کمرشلائز کردیا، کمرشلائزیشن سے انڈسٹریز بند ہوگئیں، لوگوں نے انڈسٹریز ختم کرکے پیسہ زمینوں پر لگا دیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے مزید ریمارکس دیے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کراچی کا بیڑا غرق کردیا، دو ماہ میں کثیر المنزلہ عمارت کھڑی کر دی جاتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شہر کو رہنے کے لیے نہیں چھوڑا گیا۔ سندھی مسلم سوسائٹی کا حال تو یہ ہے کوئی چل نہیں سکتا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ پی ای سی ایچ سوسائٹی میں غیرقانونی الاٹمنٹ کیس میں عدالت نے واضح کیا کہ ماسٹر پلان اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد ہی حکم جاری کیا جائے گا۔

عدالت نے ہل پارک متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی سے متعلق درخواست پر سوسائٹی انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا۔