حکومت نے ایمرجنسی سسٹم کی بہتری اور ترقی کے فنڈز میں کٹ لگا دیا


( علی عباس ) پنجاب میں ایمرجنسی سسٹم کی بہتری اور ترقی کے فنڈز میں بھی کمی کردی گئی، نئے مالی سال میں ایمرجنسی سروسز کے نئے منصوبوں کے لیے صرف تین کروڑ 70 لاکھ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ایمر جنسی سروسز کے لیے محکمہ داخلہ اور دیگر اداروں کی جانب سے اضافی فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس کے برعکس پنجاب میں جاری مالی بحران کے باعث محکمہ خزانہ پنجاب اور پی اینڈ ڈی بورڈ نے فنڈز کو کٹ لگا دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایمر جنسی سروسز کے جاری منصوبوں کا بجٹ بھی 70 کروڑ روپے تک محدود کردیا گیا۔ ایمرجنسی سروسز کی مد میں ریسکیو سنٹرز کی بحالی اور نئے سنٹرز کی تعمیر شامل ہوتی ہے لیکن اب نئے مالی سال میں فنڈز کم مختص کیے جارہے ہیں۔

حکام کی مطابق مالی سال میں ایمرجنسی کے لیے فنڈز کم مختص کرنے کی وجہ مالی بحران ہے۔

دوسری جانب نئے مالی سال میں وفاق نے قومی مالیاتی کمیشن کے تحت پنجاب کا حصہ ایک کھرب 36 ارب روپے کم کردیا۔ نئے مالی سال میں قومی مالیاتی کمیشن کے تحت پنجاب کو 14 کھرب 65 ارب روپے دیے جانے کی تجویز ہے۔

پنجاب میں نئے مالی سال دو ہزار بیس اکیس کے بجٹ کی تیاریاں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئے مالی سال میں پنجاب کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے، نئے مالی سال میں قومی مالیاتی کمیشن کے تحت پنجاب کو 14 کھرب 65 ارب روپے دیے جانے کی تجویز ہے۔

پنجاب حکومت کو رواں سال قومی مالیاتی کمیشن کے تحت 16 کھرب 15 ارب روپے ملنا تھے لیکن مالی بحران کے باعث صرف 5 کھرب 38 ارب ملے۔