میڈیکل کالجز میں ازسرنو داخلوں کے کیس کی سماعت نہ ہوسکی

میڈیکل کالجز میں ازسرنو داخلوں کے کیس کی سماعت نہ ہوسکی

ملک محمد اشرف : کورونا وائرس خدشات کے باعث لاہورہائیکورٹ میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں ازسرنو داخلوں کے متعلق کیس کی سماعت نہ ہوسکی، جسٹس عائشہ اے ملک نے کیس کی آیندہ سماعت  13 اپریل مقرر کردی۔

لاہور ہائیکورٹ کی کورونا وائرس احتیاطی تدابیر کی ہدایات کے باعث میڈیکل کالجز میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کے از سر داخلوں کے متعلق کیس سماعت کے لئے مقرر نہ کیاگیا،عدالت نے یو ایس ایچ ایس کومیڈیکل کے طلبہ کی از سر نو فہرستیں مرتب کرنے اور یو ایس ایس کو اہنی ویب سائٹ پرتمام پرواہیٹ میڈیکل کالجز کا میرٹ اپ لوڈ کرنے کا حکم دے رکھا ہے،عدالت نےیو ایس ایس کو ایم بی بی ایس کی آٹھویں. اور بی ڈی ایس کی ساتویں فہرستیں بنانے کا حکم دے رکھا  ہے  جبکہ عدالت نے میڈیکل کالجز کے داخلوں کی اپ گریڈیشن کا نوٹفکیشن معطل کرنے کا حکم۔برقرار رکھا ہوا ہے۔

جسٹس عائشہ اے ملک کی عدالت میں پرائیویٹ  میڈیکل کے طلبہ کی درخواستیں زیر سماعت ہیں،درخواستوں میں پنجاب حکومت ، پی ایم ڈی سی ، یو ایچ ایس سمیت دیگرز کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریگولیشن پالیسی کے تحت میڈیکل ایینڈ ڈینٹل کالج میں داخلے لیے ۔تین ماہ سے مختلف پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ،پنجاب حکومت نے میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لئےنئی پالیسی بنادی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت میڈیکل کالجز کے طلباء کو اسرنو داخلوں کا کہا گیا ہے ۔نئی پالیسی کے مطابق کئی طلباء کو دوسرے میڈیکل کالجز میں منتقل ہونا پڑے گا۔ نئی پالیسی آئین کی مختلف شقوں سے متصادم ہے،درخواست گزاروں نے استدعا کی ہےکہ عدالت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی جانب سے از سر نو میڈیکل کالجزکے داخلے کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے،عدالت میں کئی طلبہ کی جانب سے میڈیکل کالجز کی اپ گریڈیشن داخلہ پالیسی پر عمل درآمد کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔