گاڑیوں کی کمی یاافسران کی لاپروائی

گاڑیوں کی کمی یاافسران کی لاپروائی

(علی ساہی) لاہورپولیس جیل سے ملزمان کو عدالتوں میں پیش اورواپس جیل منتقل کرنے کے لیے موٹرسائیکلوں اوررکشوں کا استعمال کرنے لگی۔

تفصیلات کے مطاقب کیمپ جیل کے گیٹ کے باہرکھڑے ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ پولیس اہلکارقیدیوں کو پیشی سے نہیں پکنک سے واپس لے کرجیل آرہے ہیں، پولیس اہلکار ملزمان کو سرکاری گاڑی میں عدالتوں میں پیش کرنے کی بجائے موٹر سائیکلوں یا رکشوں پرلاتے ہیں۔ اگران سے پوچھا جائے کہ ملزمان کہیں بھاگ نہ جائیں توبڑے پراعتماد انداز میں کہتے ہیں بھاگ کرجائیں گے کہاں، پیشی کے بعد سواری کے حالات تو دیکھ لیے لیکن غفلت کی حد یہ ہے کہ چوری، ڈکیتی اور قتل سمیت دیگرسنگین جرائم کے ملزمان کو بغیرہتھکڑی ان کے پیچھے چل کرجیل میں لے جایاجاتا ہے۔

ایسے مناظرکو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سدھائے ہوئے جانور ہیں کہ سیدھے اپنے ٹھکانے پرجا کر رکیں گے، ایسی سنگین غفلت پرلاہورپولیس کے اعلی افسران کوایکشن لینا ہوگا اورپیشی پرلانے اورلےجانے کے لیے گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانی ہوگی۔

شازیہ بشیر

Content Writer