سب جیل میں ہوں گے!!

سب جیل میں ہوں گے!!

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینے کے معاملے پر  غیر متعلقہ دستاویزات پیش کرنے پر ایڈیشنل ہوم سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری اور سپیشل سیکرٹری کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں.

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے عبداللہ تنویر کی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو عدالتی احکامات دینے پر توہین عدالت کے معاملے پر کارروائی کی.عدالتی حکم پر چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم مومن علی آغا  اپنے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا کے ہمراہ پیش ہوئے، تاہم ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس سمیت دیگر افسران بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس لاہور محمد قاسم خان نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ  نےعدلیہ نہ پارلیمنٹ کو کنٹرول کرتی ہے اور نہ ایگزیکٹو کو کنٹرول کرتی ہے بلکہ  قانون کی تشریح کرتی ہے.  چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان پر بڑی ذمہ داری ہے ان  کا ایک ایک لفظ جملہ بڑا محتاط ہونا چاہئے. چیف جسٹس نے قرار دیا کہ کچھ لوگوں کو بچانے کیلئے عدالت کیساتھ کھیلنے کی کوشش نہ کریں. آپ یہ چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس سیکرٹریٹ کو سیل کر دے؟

 دوران سماعت ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم مومن علی آغا  نے عدالت کو بتایا کہ  سمری کے بغیر نوٹیفیکشن جاری کیا. چیف جسٹس  نے ریمارکس  دیئے چلیں آپ ایک پر سارا ملبہ ڈال دیں، لیکن بچےگا کوئی بھی نہیں، بیورو کریسی نے ملک کو تباہ کر دیا ہے. یہ کہاں سے نوٹنگ چلی ہے؟ کسی کلرک بادشاہ نے لکھی ہے. چیف سیکرٹری پنجاب کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ  ہم تو آئے تھے نماز بخشوانے کیلئے یہ روزے گلے پڑ رہے ہیں. آج ہمارا ترلہ دن ہے آج توہین عدالت کا نوٹس جاری نا کریں، ڈاکٹر خالد رانجھا ایڈووکیٹ نے کہا کہ سر یہ سول سرونٹ ہیں. اس پر چیف جسٹس نے باور کرایا کہ یہ تو بڑے ببر شیر ہیں، انکو کچھ نہیں ہوتا.

 دوران سماعت  چیف جسٹس محمد قاسم خان  نے قرار دیا کہ اُن ذات کی توہین کی ہوتی تو  بڑے آرام سے چھوڑ دیتا لیکن یہ پورے سسٹم کی توہین کی ہے.     چیف سیکرٹری پنجاب نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی، چیف جسٹس نے قرار دیا پہلے ان بندوں کو تو بلانے دیں جن کو ہائیکورٹ کے اختیارات استعمال کرنے کا شوق ہے. سیکرٹری اپنے کام سے یا گورنمنٹ توڑ دیتے ہیں یا گورنمنٹ بنا دیتے ہیں.  چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ  وہ سمری کا کر دکھائیں جس پر وزیراعلی نے منظوری دی. کیا چیف سیکرٹری پنجاب نے سمری تیار کرتے ہوئے اپنا ذہن استعمال کیا یا نہیں.  ہائیکورٹ کے اختیار کو استعمال کرنے کی کوشش کی ، جس جس نے سمری بنائی ہے وہ سب جیل میں ہوں گے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ عدالت کی معاونت کی جائے کہ ایک فرد اور پورے سسٹم کیخلاف توہین کی معافی کہاں تک قابل قبول ہو سکتی ہے. ۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت دوہفتوں کے لیے ملتوی کردی ۔