وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے

 وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے

 (سعید احمد سعید) وزیر ریلوے شیخ رشید کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے، 30 نومبر سے لاہور سے راولپنڈی کے مابین نان سٹاپ ٹرین بحال کرنے کا فیصلہ، لاہور اور راولپنڈی ریلوے سٹیشنز پر بنائے گئے ریسٹورنٹس پرائیوٹ پارٹی کو دینے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔

پرائیوٹ کردہ ٹرینوں کی مینٹی نینس نجی سیکٹر خود کرے گا، پرائیوٹ کردہ ٹرین فرید ایکسپریس کے مالکان کو 12 نومبر کو تین ریک دینے کی ہدایات جاری کی گئیں، لاہور سے راولپنڈی سفر کو چار گھنٹے میں مکمل کرنے، لاہور اور راولپنڈی ریلوے سٹیشنز پر بنائے گئے ریسٹورنٹس کو آؤٹ سورس کرنے کی ہدایت کی گئی۔

 وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے نے فریٹ ٹرینوں کی باقاعدہ آن لائن بکنگ شروع کردی ہے، اس کا مقصد بے ضابطگیوں کو روکنا ہے، 12 نومبر سے 8 مزید ٹرینیں پرائیوٹائز کرنے جا رہے ہیں، پہلے ہی چار فریٹ ٹرینیں بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پرائیویٹ پارٹیز کو دے دی ہیں، راولپنڈی اور لاہور کے درمیان مسافروں کی تعداد بڑھ رہی ہے، مسافر ریلوے کے سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔

ریلوے ہیڈکوارٹر کی جاری کردہ جنوری تا ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ٹرینوں میں تصادم، آگ لگنے، ڈی ریلمنٹ، مینڈ اور ان مینڈ لیول کراسنگ کے حادثات ہوئے، 9 ماہ میں 56 روز تک ٹرین آپریشن بند رہا، حادثات سے انفراسڑکچر اور رولنگ سٹاک کی تباہی سے ریلوے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

 ذرائع کے مطابق لاہور ڈویژن میں سب سے زیادہ 28 حادثات ہوئے، ٹرینوں میں آگ لگنے کے 5، مال گاڑیوں کے پٹری سے اترنے کے 33، روڈ ٹرانسپورٹ کی غلطی کے باعث 37، ریلوے سٹاف کی غلطی سے 14 حادثات ہوئے، بیشتر حادثات کی انکوائریاں تاحال مکمل نہ کی جا سکیں۔