کالج انتظامیہ کی بوکھلاہٹ یا کچھ اور، طالبہ کی مبینہ خودکشی کا مقدمہ درج نہ ہوسکا

Chandka medical college
Student Suicide

ویب ڈیسک: لاڑکانہ میں چانڈکا میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل سے میڈیکل کی طالبہ نوشین کاظمی کی پھندا لگی نعش برآمد ہونے کے معاملے کے بعد واقع کا مقدمہ ابھی تک دائر نہ ہوسکا۔

گزشتہ رات ڈاکٹر نوشین کاظمی کی پوسٹ مارٹم ہونے کے بعد چانڈکا انتظامیہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی جاری نہ کرسکی۔ یاد رہے چانڈکا میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل سے فورتھ ایئر  کی طالبہ کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ کالج انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے ہاسٹل کو سیل کردیا اور میڈیا نمائندگان کو کوریج سے روک دیا تھا۔ علاوہ ازیں چانڈکا میڈیکل کالج نے طالب علموں کےآنے جانے پر  بھی پابندی عائد کردی تھی۔

دوسری جانب سوشل میٖڈیا صارفین نوشین کاظمی کی مبینہ خودکشی پر انصاف کی فراہمی نہ ہونے پر شدید رنج و غصہ پایا جارہا ہے۔ اس واقعے کی تمام تر ذمہ دار وہاں کی انتظامیہ ہے، نمرتا کماری کے کیس میں بھی آسانی بھاگ نکلی، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیئے۔

دو سال قبل ڈینٹل کالج کے گرلز ہاسٹل سے فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا کماری کی لاش بھی برآمد ہوئی تھی۔ ڈاکٹر نمرتا کماری فائنل پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق انہیں ریپ کر کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔