سابق صدر پرویزمشرف کے کیس کی سماعت کل تک ملتوی

سابق صدر پرویزمشرف کے کیس کی سماعت کل تک ملتوی

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نےسابق صدرپرویز مشرف کے خلاف کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی،عدالت نےپرویز مشرف کےوکیل کودرخواست کےقابل سماعت ہونےبارے مزید دلائل دینےکی مہلت دےدی۔

تفصیلات کے مطابق  جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی نےسابق صدرپرویز مشرف کی درخواست پربطوراعتراض کیس سماعت کی،درخواست گزارکی جانب سےخواجہ طارق رحیم اور اظہرصدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے،درخواست میں وفاقی حکومت،وزارت قانون،ایف آئی اے اورخصوصی عدالت کےرجسٹرار کو فریق بنایا گیا۔

ایڈووکیٹ خواجہ طارق رحیم نےموقف اختیارکیا کہ رجسٹرار آفس نےاعتراض لگایا ہےکہ لاہورہائیکورٹ اس کیس کی سماعت نہیں کرسکتی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نےوکیل سےاستفسارکیا کہ کیا مشرف اسلام آباد کےرہائشی ہیں؟ وکیل نےجواب دیا جی پرویز مشرف اسلام آباد کےرہائشی ہیں، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نےکہا تویہ کیس کیسےلاہور ہائیکورٹ میں سناجاسکتا ہے۔

خواجہ طارق رحیم نےدلائل دیتےہوئےکہا کہ پرویز مشرف نےآئین کےآرٹیکل 199 کے تحت یہ درخواست دائرکی ہے،اسوقت کےوزیراعظم میاں نواز شریف کی ہدایت پر خصوصی عدالت بنائی گئی، جسٹس سید مظاہرعلی اکبر نقوی نےکہا کہ جب معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہےتوہائیکورٹ کیسےاس کیس کی سماعت کرسکتی ہے۔

عدالت نےکیس کی سماعت 26نومبرتک ملتوی کرتےہوئےوکیل کوکہا کل یہ بتائیں کہ ایک فرد اسلام آباد کا رہائشی ہےتولاہور ہائیکورٹ اس کیس سماعت کی کیسےسماعت کرسکتی ہے؟درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہےکہ خصوصی عدالت نے19 نومبرکوموقف سنےبغیرغداری کیس کا فیصلہ محفوظ کیا ہے۔

پرویز مشرف بیماری کی وجہ سےبیرون ملک زیرعلاج ہیں،درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ سپریم کورٹ کےفیصلوں کےمطابق کیس کودوبارہ سماعت کیلئےشروع اورخصوصی عدالت کا فیصلہ محفوظ کرنےکا حکم معطل کیا جائے،عدالت پرویز مشرف کی صحت کےتعین کےلیےغیرجانبدارمیڈیکل بورڈ تشکیل دینےکا حکم بھی دے۔