پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت

پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت

سٹی42: پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے,  ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انوسٹی گیشن بورڈ کی ٹیم نے ائرپورٹ پر رن وے اور جائے حادثہ کا دورہ کیا اور اہم شواہد حاصل کرلیئے ہیں جبکہ ائیربس طیارہ ساز کپمنی کی ٹیم بھی تحقیقات کیلئے آج پاکستان پہنچے گی . 

حکومتی تحقیقاتی ٹیم نے رن وے پر لگے کیمرے سے لینڈنگ کے مناظر بھی دیکھے. فوٹیج میں دیکھا گیا کہ کپتان نے طیارے کے گئیر ڈاون نہیں کیئے . رن وے ایل 25 پر طیارے کے انجن کے رگڑنے کے نشانات بھی پائے گئے ہیں. سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا کہ جہاز کا پہلا انجن زمین سے ٹکرایا پھر دوسرا دونوں انجن زمین سے ٹکرانے کے بعد طیارہ دوبارہ فضا میں بُلند ہوگیا۔

سٹیلایٹ وڈیو میں دوبارہ لینڈگ سے قبل پائلٹ نے انجن فیل ہونے کی اطلاع دی جس پر کنٹرول ٹاور نے پوچھا کہ کیا آپ لینڈنگ کریں گے رن وے آپ کیلئے خالی ہے, پائلٹ نے جواب دیا راجر, اسی دوران پائلٹ نے مے ڈے مے ڈے 8303 کی ایمرجنسی کال دی اور طیارہ ماڈل کالونی میں آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا.

دوسری جانب ائیرکرافٹ ایکسیڈنٹ انوسٹی گیشن بورڈ کی ٹیم نے ماڈل کالونی جناح گارڈن میں جائے حادثہ کا دورہ کیا اورشواہد جمع کیے۔ ذرائع کے مطابق ٹیم کو وائس ریکارڈر سمیت اہم شواہد کی تلاش تھی، ادھر ائیربس بنانے والی طیارہ ساز کپمنی کی تحقیقاتی ٹیم آج کراچی پہنچے گی ائیر بس طیارہ ساز کمپنی نے ائر بس 380 استمعال کرنے والے تمام آپریٹر کوخط لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ تاحال حادثے کے حوالے سے انتظامیہ کے پاس کوئی حتمی معلومات نہیں.

یہ طیارہ حادثے تک 47 ہزار ایک سو فلائٹ گھنٹے 25 ہزار 8 سو 60 فلائٹ سائیکل پورے کر چکا ہے، متاثرہ جہاز کے انجن سی ایف ایم فائیو بی 4 پی تھے ائربس انتظامیہ تحقیقاتی ٹیموں کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی.