لاک ڈائون ناکام ،شہریوں کی آمدورفت،میل جول جاری

لاک ڈائون ناکام ،شہریوں کی آمدورفت،میل جول جاری

ریحان گل ،ندیم خالد : لاہور سمیت پنجاب بھر میں لاک ڈائون ناکام ،شہریوں کی آمدورفت،میل جول جاری ،98 مقامات پر ناکے،28 گاڑیاں بند کردی گئیں۔

سرکاری اور نجی ادارے سب بند، لیکن پناہ گاہیں چالو،،پنجاب میں لاک ڈائون کا حکم پناہ گاہوں پر لاگو نہ ہوسکا،پناہ گاہوں میں دیگراضلاع اور صوبوں سےلوگوں کی آمد جاری، کورونا کےپھیلاو کا بڑا خطرہ ہونےکے باوجود حکومت پناہ گاہیں بند کرنے سے گریزاں ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سےدیگرعلاقوں سے آنے والے افراد کوعارضی رہائش گاہ فراہم کرنے کے لیےلاہور سمیت صوبے بھر میں پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں،جہاں روزانہ دیگراضلاع اور صوبوں سے بھی لوگ آتے ہیں،، کورونا کی وباکے باعث حکومت نے تمام سرکاری اور نجی ادارے بند کرکے لاک ڈاون کا حکم دے رکھا ہےلیکن پناہ گاہیں بند کرنے کے حوالے سے تاحال فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔

ذرائع کے مطابق دیگرعلاقوں کے افراد کی پناہ گاہوں میں آمدکورونا کےپھیلاو کاسبب بن سکتا ہےاس خطرے کے پیش نظر متعلقہ محکموں نےپناہ گاہیں بند کرنے کی سفارش کی تھی،مگر وزیراعلی سیکرٹیریٹ کی جانب سےاس تجویز کو رد کردیا گیا ہے۔

دوسیری جانب ڈی آئی جی آپریشنزرائےبابر سعید کا کہنا تھا کہ پولیس نےلاک ڈاون پرعملدرآمد یقینی بنانے کے لئےمختلف مقامات پر98 ناکے لگائے،ناکوں کا مقصد حکومت پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں شہریوں کو کورونا وائرس سےمحفوظ اورغیر ضروری سفر سے باز رکھنا تھا،6ہزار391 سے زائد اشخاص کو غیرضروری سفر سے روک کر واپس گھروں کو روانہ کیاگیا،دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 146ایف آئی آرز درج کی گئیں،ایف آئی آرز میں نامزد افراد کوبعد ازاں دوبارہ قانون شکنی نہ کرنےکی ضمانت پر چھوڑ دیا گیا۔

2ہزار337 سےزائد موٹر سائیکلز،رکشوں ،کاروں اور بڑی گاڑیوں کو غیر ضروری سفر سےروکاگیا،قانون شکنی اور ضروری دستاویزات نہ ہونے پر28 گاڑیاں بند کی گئیں،ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ لاک ڈاون کی پابندی شہریوں کی زندگی کی حفاظت کے لیے ہے،شہری دوران سفر اپنا قومی شناختی کارڈ لازمی ہمراہ رکھیں اور ہدایات کی پابندی کریں۔