ہائیکورٹ کے اسٹیبلشمنٹ افسران کیلئے خوشخبری

ہائیکورٹ کے اسٹیبلشمنٹ افسران کیلئے خوشخبری

( ملک اشرف ) لاہور ہائیکورٹ کے اسٹیبلشمنٹ افسران کے لیے اچھی خبر، چیف جسٹس ہائی کورٹ محمد قاسم خان نے بڑی تعداد میں افسروں کی ترقیوں کی منظوری دے دی۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے پروموشن کمیٹی کی سفارش پر اسٹیبلشمنٹ کے افسران اور سٹاف کو محکمانہ ترقی دینے کی منظوری دی۔ ذرائع کے محکمانہ ترقیوں بارے چھبیس جون تک نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے جانسن برنارڈ سمیت تین ڈپٹی رجسٹرارز کی گریڈ 20 میں ایڈیشنل رجسٹرارز، دس اسسٹنٹ رجسٹرارز کی گریڈ 19 میں ڈپٹی رجسٹرارز جبکہ 44 آفس ایڈمن کوارڈینیٹرز کی گریڈ 18 میں اسسٹنٹ رجسٹرارز کے عہدوں پر ترقی کی منظوری دے دی گئی۔

پرسنل اسسٹنٹ کے عہدوں کو بھی گریڈ اٹھارہ میں ٹائم سکیل پروموشن کی منظوری کے ساتھ ساتھ دو ایڈیشنل رجسٹرارز ہائیکورٹ کو بھی پروفارما پرموشن دی گئی ہے۔

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں مسابقتی کمیشن کی تشکیل کیخلاف گیارہ سال سے زیرالتواء درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ جسٹس عائشہ اے ملک کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے راجہ سیلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے مسابقتی قانون کے سیکشن تین اور چار کے حوالے دیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسابقتی کمیشن صرف قیمتیں بڑھانے والوں سے ہی ڈیل نہیں کرتا بلکہ بعض اوقات بڑی بڑی کمپنیاں اجارہ داری قائم کرنے کے لئے اپنی پراڈکٹس کی قمتیں بھی کم کردیتی ہیں۔ بنچ کے ممبر جسٹس شاہد جمیل خان نے کہا کراچی میں بریانی والا ایک ریڑھی سے شروع ہوا اور اب اسکی کئی کئیی شاخیں ہیں۔

اس پر بھی بتائیں کہ اس طرح کے معاملات میں کون سا قانون لاگو ہوتا ہے۔ گیارہ سال سے زیر سماعت اس کیس میں سیمنٹ ودیگر کمپنیوں کے وکیل علی سبطین فضلی پہلے ہی اپنے دلائل مکمل کرچکے ہیں۔