معذور بچوں کو نکال کر گھر مسمار کرنے پر ایل ڈی اے کا دوہرا معیار

معذور بچوں کو نکال کر گھر مسمار کرنے پر ایل ڈی اے کا دوہرا معیار

جوہر ٹاؤن (درنایاب) جوہر ٹاؤن میں معذور بچوں کو نکال کر گھر مسمار کرنے پر ایل ڈی اے کا دوہرا معیار، ایل ڈی اے حکام ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ ٹو نعمان خان کو او ایس ڈی کرنے کے بعد ذمہ داری سے نبرد آزما ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے میں اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو سب اچھا کی رپورٹ دینے کی تیاریاں جاری ہے، ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ کو انتہائی کارروائی کرنے کا خفیہ حکم کس نے دیا ؟ تاحال تعین نہ ہوسکا۔واقعے کے ابتدائی محرکات میں سامنے آیا ہے کہ نامعلوم دباؤ میں آکر تین سال سے قبضہ میں متنازع پلاٹ پر راتوں رات ایکشن کی تیاری کی گئی، ایکشن لینے سے قبل اسٹیٹ افسر کی چھٹی ختم ہونے یا فوری واپس بلانے کا بھی انتظار بھی نہ کیا، بظاہر ایل ڈی اے نے پانچ مرلے کے قیمتی پلاٹ پر معذور بچوں کی فیملی کو بے دخل کرکے بااثر افراد کا ساتھ دیا۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ سوشل میڈیا پر معاملہ وائرل ہوا تو وائس چیئرمین نے نوٹس لیا اور ان کی ہدایت پر ڈی جی نے انکوائری کا حکم دیا، معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس لینے کے بعد ایل ڈی اے حکام نے صرف افسر کو ڈی سیٹ کیا، سوشل میڈیا پر عوام کو ٹھنڈا کرنے اور حکومتی دباؤ کو کم کرنے کیلئے افسر کو ہٹا تو دیا گیا لیکن معطلی یا انکوائری تک نہ کی گئی، متاثرہ سائلین فریاد لے کر دربدر بھٹکتے رہے لیکن ایل ڈی اے دفتر میں کسی نے داخل نہ ہونے دیا۔

ترجمان ایل ڈی اے سہیل جنجوعہ کا کہنا ہے کہ پلاٹ ایل ڈی اے کی ملکیت ہے معذور بچوں کی فیملی کا رہنے کا استحقاق نہیں۔

واضح رہےکہ 21 جون کو  جوہر ٹاؤن میں ایل ڈی اے اور پولیس نے معذور بچوں کا گھر گرایا، معذور بچے گھر توڑنے کے وقت چارپائیوں پر لیٹے دہائیاں دیتے رہے، معذور بچوں کی گھر توڑنے کے دوران دہائیوں کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔