ڈی این اے میں غلطیاں، لاہور میں دفن میت مسافر کی نکلی

ڈی این اے میں غلطیاں، لاہور میں دفن میت مسافر کی نکلی

ائیر پورٹ (فاران یامین) پی آئی اے طیارہ حادثہ میں ڈی این اے میں غلطیاں، لواحقین کے خدشات درست، لاہور سبزہ زار میں دفن ہونے والی میت احمد مجتبیٰ کی نکلی، قبر کشائی کے بعد لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔

 طیارہ حادثہ کے 32 روز بعد فلائٹ اسٹورٹ عبد القیوم اور مسافر احمد مجتبیٰ کی اصل میتوں کی شناخت ہو گئی، دوبارہ کئے گئے ڈی این اے کے مطابق لاہور میں فلائٹ اسٹورٹ سمجھ کر تدفین کی جانے والی میت مسافر احمد مجتبیٰ کی تھی، میت کی شناخت کے بعد مجسٹریٹ کی موجودگی میں چھیپا رضا کاروں نے قبرکشائی کی اور احمد مجتبیٰ کی میت کراچی کے ماڈل کالونی تھانہ کے انسپکٹر وحید احمد کے حوالے کی گئی، میت کو پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے کراچی روانہ کر دیا گیا۔

کراچی چھیپا سرد خانہ میں موجود فلائٹ اسٹورٹ عبد القیوم کی میت ان کے بھائی فیصل کے سپرد کر دی گئی جسے لاہور میں سپرد خاک کیا جائے گا، عبد القیوم کے والد آج بھی بیٹے کے غم میں نڈھال ہیں۔

عبد القیوم کے کزن کا کہنا تھا کہ احمد مجتبیٰ کے لواحقین نے 15 روز قبل ان سے رابطہ کیا اور میتوں کی تبدیلی سے آگاہ کیا جس کے بعد ان کے دوبارہ ڈی این اے بھی لئے گئے.

واضح رہے کہ 22 مئی کو لاہور سے کراچی جانے والا پی آئی اے کا مسافر بردار طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا ، طیارہ میں سوار 24 نیوز کے ڈائریکٹر پروگرامنگ انصار نقوی سمیت 96 افراد شہید ہوگئے تھے جبکہ 2 افراد خوش قسمتی سے بچ گئے تھے، بچ جانیوالوں میں صدر پنجاب بینک ظفرمسعود اور ایک مسافر محمد زبیرشامل ہے۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے  کراچی پی آئی اے طیارہ حادثے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی۔کہتے ہیں کہ پائلٹس کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، جہاز رن وے پر انجن رگڑنے سے متاثر ہوا اور آگ نکلی۔